ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

پنجاب میں حکومت کا قیام، پیپلز پارٹی کو منانے میں مسلم لیگ (ن) ناکام ،مبینہ دھاندلی کے باوجود ایسا کیوں کیا؟سابق وزیر اعظم نے وجہ بتا دی

datetime 5  اگست‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پاکستان پیپلز پارٹی کیساتھ مشترکہ طور پر مرکز میں وزیراعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی کے امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم وہ پی پی پی کو پنجاب میں حکومت کے قیام کیلئے ساتھ ملانے میں ناکام رہی۔نجی ٹی وی کے مطابق سابق وزیرِاعظم اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ ان کی جماعت کی مسلم لیگ (ن) سے بات چیت جاری ہے تاہم پھر بھی پارٹی قیادت نے اصولی طور پر پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن بینچز پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی نے مرکز اور پنجاب میں حکومت قائم کرنے کیلئے دیگر جماعتوں سے رابطوں کیلئے ایک 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جس کی سربراہی یوسف رضا گیلانی کر رہے ہیں۔یوسف رضا گیلانی کے مطابق پی پی پی نے دیگر جماعتوں کو پارلیمنٹ میں جانے پر راغب کیا کیونکہ ہم حکومت بنانے کے خواہش مند نہیں تاہم ہمارا بنیادی ہدف یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت کو مضبوط کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں شفافیت پر تحفظات کے باوجود ہم جمہوریت کو کمزور نہیں کرنا چاہتے۔سابق وزیراعظم نے بتایا کہ ہم نے دیگر جماعتوں کی طرح مسلم لیگ (ن) سے بات چیت کے دوران کوئی مطالبہ نہیں کیا، علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی میں 6 نشستیں ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کا ’کسی طرح کے انتظام‘ کی جانب جانے کو ترجیح نہیں دی اور اس کا اپوزیشن میں بیٹھنے کا ارادہ ہے۔یاد رہے کہ مرکز میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، متحدہ مجلسِ عمل (ایم ایم اے) سمیت دیگر جماعتوں نے مشرکہ طور پر وزیرِاعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے اپنا امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان جماعتوں کی جانب سے نامزد کردہ امیدواروں میں سے وزیرِ اعظم کے لیے مسلم لیگ (ن) کا امیدوار، اسپیکر کے لیے پی پی پی کا امیدوار اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے ایم ایم اے کا امیدوار سامنے لایا جائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ تعداد حاصل ہوگئی ہے ٗدوسری جانب مسلم لیگ (ن) کو نو منتخب اراکینِ اسمبلی کو راضی کرنے میں مایوسی کا سامنا رہا جبکہ اسے صوبے میں پی پی پی کی حمایت بھی حاصل نہیں۔ادھر پاکستان مسلم لیگ (ق) کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے انہیں اسپیکر پنجاب اسمبلی کے لیے پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے کچھ اراکین کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔واضح رہے کہ مسلم لیگ (ق) اور پی ٹی آئی کی جانب سے مشترکہ طور پر چوہدری پرویز الہٰی کو اسپیکر صوبائی اسمبلی لانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…