جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اب کوئی کشمیری بھارت کا حصہ نہیں بننا چاہتا،مودی کاعمران خان کومبارکباد کا فون اشارہ ہے کہ ۔۔۔! نیویارک ٹائمز کے حیرت انگیز انکشافات، بہت بڑی خبر سنادی

datetime 4  اگست‬‮  2018 |

واشنگٹن(آئی این پی) معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اب کوئی کشمیری بھارت کا حصہ نہیں بننا چاہتا،بھارت کی اکثریتی آبادی ہندووں میں قوم پرستی کے جذبات میں اضافے کے نتیجہ میں کشمیری مسلمانوں میں بھارت کے خلاف نفرت بڑھی ہے، ہندوآبادی میں قوم پرستی کے جذبات میں اضافے کا نشانہ زیادہ تر مسلمان ہی بنتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بھارت سے نفرت کرنے والے کشمیریوں کی

تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور وہ بھارتی تسلط سے آزادی کی جدو جہد میں مصروف کشمیریوں کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔۔ہفتہ کو نیویارک ٹائمز میں شائع رپورٹ کے مطابق بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارتی ہندووں میں قوم پرستانہ جذبات میں اضافہ ہوا ہے اور حکمراں جماعت کے کئی اہم رہنماؤں کا ریکارڈ مسلم اقلیت کے ساتھ سلوک کے حوالے سے قابل اعتراض ہے۔ بی جے پی رہنماں کے طرز عمل نے بھارتی مسلمانوں کو مزید تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ بی جے پی کے رہنماں کے طرز عمل نے انتہا پسند ہندووں کی حوصلہ افزائی کی ہے جس کی وجہ سے بھارت بھر میں مسلمانوں پر حملوں اور ان کے قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔رپورٹ میں پاکستان کے حالیہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں انھوں نے مسئلہ کشمیر کو بات چیت سے حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انتخابات میں عمران خان کی کامیابی کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا ان کو مبارکباد کا فون اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ کشمیر پر کوئی بریک تھرو ممکن ہے۔  معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اب کوئی کشمیری بھارت کا حصہ نہیں بننا چاہتا،بھارت کی اکثریتی آبادی ہندووں میں قوم پرستی کے جذبات میں اضافے کے نتیجہ میں کشمیری مسلمانوں میں بھارت کے خلاف نفرت بڑھی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…