اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان 1نہیں بلکہ اگست کی کس تاریخ کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا رہے ہیں۔۔دعوتی کارڈ بانٹ دئیے گئے

datetime 3  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے معروف مزاح نگار اور کالم نویس عطا الحق قاسمی اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں کہایک دوست کو آج ’’وزیر اعظم عمران خان‘‘ کی حلف وفاداری کی تقریب کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے جو 14؍ اگست کو ایوانِ صدر میں منعقد ہو گی۔ میں نے یہ کارڈ دیکھا تو دوست کو فون کیا کہ برادر ابھی خاں صاحب کی حلف وفاداری کا نوٹیفکیشن تو جاری ہوا نہیں

یہ کارڈ کیسے چھپ گیا۔ ستم ظریف دوست نے جواب دیا ’’یہ کارڈ تو پتہ نہیں کب کا چھپا ہوا ہو گا، اب اسے ضائع کرنا قومی خزانے کی لوٹ مار کے زمرے میں آتا، چنانچہ لوگوں کو پوسٹ کر دیا گیا‘‘۔ خان صاحب کی یہ پھرتیاں دیکھ کر میں نے سوچا کہ ممکن ہے موصوف عوامی مسائل کے حل کے ضمن میں بھی یہ پھرتیاں دکھائیں گے۔ بہرحال ابھی تک تو یہی لگتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں وزارتِ عظمیٰ کے لئے اپنا مشترکہ امیدوار شاید کھڑا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتیں، اس صورت میں تو وزیر اعظم بہرحال عمران خان ہی بنیں گے۔ ویسے اگر مجھ سے پوچھا جائے تو میں یہی رائے دوں گا کہ اپوزیشن اکثریتی پارٹی کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے والے خاں صاحب کی وزیر اعظم بننے کی دیرینہ خواہش کی تکمیل ہونے دیں۔ وہ اور ان کے بچے آپ کو عمر بھر دعائیں دیں گے۔ ویسے بھی جنہوں نے عمران خاں کے وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار کی ہے وہ اس مشن کی تکمیل کے لئے رستے کی ہر رکاوٹ کو دور کرنے پر قادر ہیں تاہم مستقبل بہرحال اسی کا ہے جو لندن سے اپنی بیٹی کے ساتھ صرف جیل جانے کے لئے پاکستان آیا۔ چنانچہ مسلم لیگ (ن) سے خصوصاً میری درخواست ہے کہ وہ عمران خان کے رستے میں نہ آئیں، اسے ہنسی خوشی وزیر اعظم بننے دیں اور پھر ’’دیکھ خدا کیا کرتا ہے‘‘ کا منظر سال ڈیڑھ سال بعد اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ مجھے اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ عمران خان کو بہت جلد آٹے دال کا بھائو معلوم ہو جائے گا۔ انہوں نے اپنے ناتواں کندھوں پر دعووں کا اتنا بوجھ اٹھا رکھا ہے کہ چند قدم چلنے کے بعد ان کی ٹانگیں لڑکھڑانے لگیں گی اور ان کا سانس پھول جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…