بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

اتنی رقم ڈیم فنڈ میں فوراً جمع کراؤ، سپریم کورٹ نے اہم ترین کیس میں التواء لینے پر اپیل کنندگان کو حیرت انگیز سزا سنادی

datetime 2  اگست‬‮  2018 |

ا سلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور سے پنجاب کے جنوبی اضلاع میں شوگر ملزکی منتقلی کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف دائر اپیلوں کی سماعت کے دور ان التوا لینے پر تمام اپیل کنندگان کو مجموعی طورپردس لاکھ روپے رقم ڈیم فنڈ میں جمع کرنے کی ہدایت کی ۔ جمعرات کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ،اس موقع پرچیف جسٹس نے کہا کہ

ملز مالکان نے ایک سیزن کے لئے مل چلا کر مالی فائدہ حاصل کرلیا ہے ٗاب وہ اپنی ملز واپس سابقہ مقا مات پرمنتقل کرلیں تاہم اگر اپیل کنند گان کوعدالت کی پیشکش قبول نہیں تو پھرعدالت میرٹ پر فیصلہ کر ے گی جس پر متاثرہ شوگر مالکان کے وکلا ء نے عدالت سے کہاکہ اس معاملے پرہدایات لینے کیلئے ہمیں اپنے کلائنٹس سے مشاورت کرنے کے لئے مہلت دی جائے تاہم چیف جسٹس نے ان کی استدعا مسترد کردی اورواضح کیاکہ ان شوگر ملوں نے ایک سیزن مفت میں کرشنگ کر لی ہے اس لئے اس کیس کا اب فیصلہ ہونا چاہیے تاکہ علاقے کے لوگوں کو شوگر ملز کی قیمت کے بارے میں علم ہو اورکاشتکاروں کوبھی معاوضوں کے معاملے میں سہولت حاصل ہو ، سماعت کے دوران حسیب وقاص شوگر مل کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ انھیں اپنے موکلان سے ہدایات لینے کاموقع دیا جائے ۔ توچیف جسٹس نے کہاکہ ابھی آپ ہدایات لینے کی بات کرتے ہیں تو اپنے موکلان کو ساتھ لیکر آنا تھا ،غریب لوگ توعدالت میں اپنے وکیل کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں اگرآپ نے کیس لڑنا ہے تو یہ رعایت پھر نہیں ملے گی۔ عدالت نے درخواست گزاروں کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہاکہ وہ کیس کے میرٹ پردلائل دیں توایک شوگرملز مالک کے وکیل نے کہا کہ

ملز قانون کے مطابق اجازت لے کر منتقل کی گئی تھی اورقانون میں یہ گنجائش موجود ہے کہ کسی بھی صنعتی یونٹ کو حکومت کی اجازت کے بعد کسی دوسری جگہ منتقل کیاجائے ،چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیاکہ حسیب وقاص شوگر ملز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کون ہیں؟ تمام ڈائریکٹرز نواز شریف اورشہباز شریف کے علاوہ ان کے خاندان سے ہی تعلق رکھتے ہیں،بات نیک نیتی یا بدنیتی کی ہے، لوگوں کودھوکہ دیا جاتا رہا کہ شوگر مل نہیں

بلکہ یہ پاور پلانٹ لگایا جا رہا ہے۔عدالت نے شوگر ملز واپس منتقل کر نے کا آپشن اس لئے دیا ہے کہ آپ کوملزکی منتقلی کیلئے اگروقت چاہئے تو عدالت دینے کیلئے تیار ہے، اسی زمین کو دوسرے کسی کام کیلئے استعمال کیا جائے ۔جس پر حسیب شوگرملزکے وکیل نے دوبارہ استدعاکی کہ انھیں موکل سے ہدایت لینے کا وقت دیا جائے ،کہ وہ کونسا آپشن چاہتے ہیں مجھے 10دن کا وقت دیا جائے کیونکہ میں رخصت پر ہوں جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ

عدالت آپ کی چھٹی منسوخ کردے گی کیونکہ میں خود بھی ایک چھٹی تک نہیں کر رہا اگرآپ نے التوا لینا ہے تو 10 لاکھ ڈیمز فنڈ میں جمع کرادیں دودرجن کے قریب شوگرملز ہیں دس لاکھ اگرتقسیم بھی کرلیں توفی ملز تینتیس ہزارروپے حصہ آئے گا جس پرشوگرملز مالکان کے وکلاء نے آمادگی ظاہرکرتے ہوئے دس لاکھ روپے جمع کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ بعدازاں عدالت نے تمام وکلا ء کو تحریری گزارشات جمع کرانے کا حکم جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ آئندہ سماعت پر التوا کی کوئی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…