جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

انٹرنیشنل امدادی اداروں میں جنسی استحصال روکنا محال ہوگیا،برطانوی پارلیمانی کمیٹی

datetime 1  اگست‬‮  2018 |

لندن(انٹرنیشنل ڈیسک)برطانوی پارلیمانی کمیٹی نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل امدادی تنظیموں میں جنسی استحصال کے سلسلے کو روکنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ یہ ادارے اپنے مرد ملازمین کے ہاتھوں خواتین ورکروں کے استحصال میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے ترقیاتی شعبے کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے سربراہ اسٹیفن ٹوِگ نے کہاکہ

بین الاقوامی امدادی اداروں میں جنسی استحصال ایک وباء کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ یہ ادارے ایسی صورت حال کا خاتمہ کرنے کے بجائے اپنے ملازمین کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح کسی بھی استحصالی رویے کی انکوائری شفاف طریقے سے مکمل نہیں ہو پاتی۔اس کمیٹی نے انٹرنیشنل اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی تنظیم کے ملازمین کی مزید چھان بین کرے اور ایسے افراد کے نام سامنے لائیں جو خواتین کے جنسی استحصال میں ملوث پائے گئے ہوں تا کہ ان شکاریوں کو کوئی اور ادارہ نوکری دینے سے گریز کرے کیونکہ جنسی استحصال کرنے والے اپنی عادت سے باز نہیں رہ سکتے اور وہ مسلسل ایسے افعال کا ارتکاب کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایسے اداروں میں مجموعی تاثر یہ ہے کہ جنسی استحصال کرنے والے ملازمین کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور اس باعث اندرونِ خانہ پیچیدگیوں کا سلسلہ دراز ہونے لگا ہے۔ برطانوی پارلیمانی کمیٹی کے مطابق ڈیویلپمنٹ سیکٹر میں یہ مسئلہ انتہائی گھمبیر ہو چکا ہے اور اس کا حجم بعید از قیاس ہے۔یہ بھی واضح کیا گیا کہ بین الاقوامی امدادی اداروں میں ملازم خواتین کے جنسی استحصال کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ برطانوی دارالعوام کی خصوصی کمیٹی کی رپورٹ رواں برس کے اوائل میں برٹش کثیرالقومی امدادی ادارے اوکسفیم میں جنسی استحصال کے الزامات کے تناظر میں ہے۔

جب سات ملازمین نے اپنی اپنی نوکریوں سے استعفے دے دیے تھے۔اوکسفیم کے حوالے سے ایسے انکشافات بھی سامنے آئے تھے کہ اس ادارے کے بعض ملازمین نے کیربیین ملک ہیٹی میں سن 2010 کے زلزلے کے بعد قائم ہونے والے مقامی دفتر میں خواتین عہدوں پر جسم فروش خواتین کو ملازمتیں تک دے رکھی تھیں۔دوسری جانب برطانیہ کی

غیرسرکاری تنظیموں کے نگران ادارے انٹرنینشل ڈیویلپمنٹ نان گورنمنٹل آرگنائزیشن کی سربراہ جوڈتھ بروڈی کا کہنا تھا کہ مختلف ادارے جنسی استحصال کے عمل کا مکمل صفایا کرنے پر مجبور ہیں۔ بروڈی کے مطابق غیرسرکاری تنظیموں میں بظاہر معاملات معمول کے مطابق جاری ہیں اور ان میں یقینی طور پر تبدیلی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…