جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

انٹرنیشنل امدادی اداروں میں جنسی استحصال روکنا محال ہوگیا،برطانوی پارلیمانی کمیٹی

datetime 1  اگست‬‮  2018 |

لندن(انٹرنیشنل ڈیسک)برطانوی پارلیمانی کمیٹی نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل امدادی تنظیموں میں جنسی استحصال کے سلسلے کو روکنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ یہ ادارے اپنے مرد ملازمین کے ہاتھوں خواتین ورکروں کے استحصال میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے ترقیاتی شعبے کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے سربراہ اسٹیفن ٹوِگ نے کہاکہ

بین الاقوامی امدادی اداروں میں جنسی استحصال ایک وباء کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ یہ ادارے ایسی صورت حال کا خاتمہ کرنے کے بجائے اپنے ملازمین کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح کسی بھی استحصالی رویے کی انکوائری شفاف طریقے سے مکمل نہیں ہو پاتی۔اس کمیٹی نے انٹرنیشنل اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی تنظیم کے ملازمین کی مزید چھان بین کرے اور ایسے افراد کے نام سامنے لائیں جو خواتین کے جنسی استحصال میں ملوث پائے گئے ہوں تا کہ ان شکاریوں کو کوئی اور ادارہ نوکری دینے سے گریز کرے کیونکہ جنسی استحصال کرنے والے اپنی عادت سے باز نہیں رہ سکتے اور وہ مسلسل ایسے افعال کا ارتکاب کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایسے اداروں میں مجموعی تاثر یہ ہے کہ جنسی استحصال کرنے والے ملازمین کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور اس باعث اندرونِ خانہ پیچیدگیوں کا سلسلہ دراز ہونے لگا ہے۔ برطانوی پارلیمانی کمیٹی کے مطابق ڈیویلپمنٹ سیکٹر میں یہ مسئلہ انتہائی گھمبیر ہو چکا ہے اور اس کا حجم بعید از قیاس ہے۔یہ بھی واضح کیا گیا کہ بین الاقوامی امدادی اداروں میں ملازم خواتین کے جنسی استحصال کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ برطانوی دارالعوام کی خصوصی کمیٹی کی رپورٹ رواں برس کے اوائل میں برٹش کثیرالقومی امدادی ادارے اوکسفیم میں جنسی استحصال کے الزامات کے تناظر میں ہے۔

جب سات ملازمین نے اپنی اپنی نوکریوں سے استعفے دے دیے تھے۔اوکسفیم کے حوالے سے ایسے انکشافات بھی سامنے آئے تھے کہ اس ادارے کے بعض ملازمین نے کیربیین ملک ہیٹی میں سن 2010 کے زلزلے کے بعد قائم ہونے والے مقامی دفتر میں خواتین عہدوں پر جسم فروش خواتین کو ملازمتیں تک دے رکھی تھیں۔دوسری جانب برطانیہ کی

غیرسرکاری تنظیموں کے نگران ادارے انٹرنینشل ڈیویلپمنٹ نان گورنمنٹل آرگنائزیشن کی سربراہ جوڈتھ بروڈی کا کہنا تھا کہ مختلف ادارے جنسی استحصال کے عمل کا مکمل صفایا کرنے پر مجبور ہیں۔ بروڈی کے مطابق غیرسرکاری تنظیموں میں بظاہر معاملات معمول کے مطابق جاری ہیں اور ان میں یقینی طور پر تبدیلی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…