بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

آپ کے اس بیان کا مطلب کیاہے؟ وضاحت دیں،امریکہ بھی ایسا ہی سمجھتا ہے،مولانا فضل الرحمان نے جنرل قمر باجوہ سے جواب طلب کرلیا، دھماکہ خیز اعلان

datetime 31  جولائی  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہے آرمی چیف کی دشمن کو ووٹ سے شکست دینے کا مطلب کیا،فوج اس بیان کی وضاحت کرے کہ کون دشمن ہے؟ امریکہ بھی مذہبی جماعتوں کو پاکستان کا دشمن سمجھتا ہے،سپہ سالار اپنے بیان کی تصدیق کریں کہ کس کو شکست دیں ہیں،آرمی چیف اپنے بیان کے ذریعے الیکشن میں فریق ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق کریں۔ہفتہ کو اسلام آباد میں ایم ایم اے کی مشاورتی اجلاس کے بعد

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اسٹبلشمنٹ کھلے دل سے مداخلت کو تسلیم کرے،اس طرح کے اقدامات سے عوام اور فوج کے مابین دوریاں بڑھیں گی۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ الیکشن کمیشن بار بار اصرار کر رہا ہے کہ انتخابات شفاف ہوئے ہیں جبکہ تمام جماعتیں متفق ہیں کہ دھاندلی ہوئی ہے،پی ٹی آئی کو دھاندلی کے ذریعے اکثریت ملی ہے،ان کے پاس حکومت بنانے کیلئے مطلوبہ تعداد ہی نہیں اس لئے پی ٹی آئی اپنے حد میں رہے۔سربراہ ایم ایم اے نے کہا کہ ایم ایم اے متحد ہیں،اختلافات کی باتیں محض پروپیگنڈا ہے، ان افواہوں کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں،تمام امور اتفاق رائے سے طے پارہے ہیں اور پا چکے ہیں،ایم ایم اے کے اندر اور باہر کی دینی جماعتوں نے انتخابات میں 50لاکھ سے زائد ووٹ لیے،اس سے پاکستان میں دینی جماعتوں کی مضبوط جڑوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی تاریخ کی بدترین ہارس ٹریڈنگ کر رہی ہے،جو کل تک ہارس ٹریڈنگ کو گالی دیتے تھے آج اسی کو چاٹ رہی ہے،آل پارٹیز کانفرنس کے بعد متفقہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ حلقے کھلوانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام حلقے کھول کر انگوٹھوں کی تصدیق کرائی جائے،الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو آئین کی غلط تشریح سے روکے،

احتجاج ہمارا حق ہے کارکن روزانہ ہر حلقے میں احتجاج جاری رکھیں۔فضل الرحمن کا حکومت بنانے سے متعلق سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ جو لوگ دھاندلی کے ذریعے ایوان میں پہنچیں ہیں وہ حکومت بنا سکتے ہیں تو جو لوگ بغیر دھاندلی اوراپنی محنت کے ذریعے ایوان میں پہنچیں ہیں ان کو بھی حکومت بنانے کا حق ملنا چاہیے۔انہوں کا حلف اٹھانے سے متعلق سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ حلف کیوں اٹھائے رہے ہیں یہ واضح ہونی چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…