منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان چاہتے ہیں کہ سب مر جائیں اور میں وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ جاﺅں‘سعد رفیق

datetime 8  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں مک مکا کی سیاست ہو رہی ہے‘ عمران خان چاہتے ہیں کہ سب مر جائیں اور میں وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ جاﺅں‘ کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں واضح ہو گیا ہے کہ ن لیگ ابھی بھی عوام کی نمائندہ جماعت ہے‘ این اے 125 میں جہاں مجھے تمام الزامات سے بری قرار دے کر الیکشن کو دوبارہ کرانے کا حکم دیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جوڈیشل کمیشن میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لئے اور اقتدار کے حصول کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ پہلے دھرنا ڈرامہ کیا اور چار ماہ تک شاہراہ دستور بند کئے رکھی۔ پاکستان سے انویسٹرز کو بھگایا۔ انویسٹ منٹ کے لئے آنے والے مہمانوں کو نہیں آنے دیا گیا اور ہم پر الزام لگایا جاتا رہا کہ ن لیگ پیپلزپارٹی کے ساتھ ملک مکاﺅ کی سیاست کر رہی ہے۔ آج کیمرے کی آنکھ نے سب دیکھ لیا کہ اعتزاز احسن اور عمران خان کس طرح منہ شگافیاں کر رہے تھے۔ عمران خان اقتدار میں آنے کے لئے ہر وہ راستہ اختیار کر رہے ہیں جس سے ریاست اور جمہوریت دونوں کو نقصان ہو۔ وہ چاہتے ہیں کہ دن چڑھے اور سب مر جائیں تاکہ میں وزیراعظم بن سکوں۔ آج کنٹونمنٹ بورڈز کے الیکشن نے یہ ثابت کر دیا کہ ن لیگ ہی حقیقی جمہوری اور عوام کی نمائندہ جماعت ہے۔ این اے 125 میں انوکھا فیصلہ کیا گیا کہ ہمیں تو ہر قسم کے الزام سے بری ثابت کیا گیا اور سات پولنگ اسٹیشن کو بنیاد بنا کر نئے الیکشن کرانے کا حکم دیا گیا ہم اگر اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کرتے تو یہ قانون بن جاتا اور جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہوتا۔ میں ان جج صاحب کی عزت کرتا ہوں جنہوں نے میرے خلاف فیصلہ دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…