منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

جسٹس شوکت علی صدیقی کے حساس ادارے پر الزامات کی اصل وجہ کیا ہے؟ کافی عرصے سے وہ پاک آرمی کے خلاف کیا کر رہے تھے؟ جنرل (ر) امجد شعیب نے سنگین دعویٰ کر دیا، چونکا دینے والے انکشافات

datetime 23  جولائی  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جسٹس شوکت علی صدیقی کے حساس ادارے پر الزامات کی اصل وجہ کیا ہے اس بارے میں ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ میں کافی عرصہ سے سوچ رہا تھاکہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ن لیگ میں شمولیت اختیارکیوں نہیں کر لی، انہوں نے کہا کہ اب انہیں ن لیگ میں شمولیت اختیار کر ہی لینی چاہیے،

جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ میں ان کے بہت سارے کیسز دیکھ رہا تھا کہ جب وہ سماعت کرتے تھے تو بغیر کسی وجہ اور بات کے آرمی کو گھسیٹ لاتے تھے، آرمی کے بارے میں ریمارکس پیش کرتے تھے اور تذلیل کرتے تھے جبکہ ان کے ریمارکس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا، ان کے ریمارکس میں کہیں کوئی حقیقت نہیں ہوتی تھی، جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے اپنے اندر ایک غصہ اور بغض تھا جو وہ ریمارکس دے کر نکالتے تھے، اس میں لازماً وہ ہمیشہ غلط ہی ہوتے تھے پھر چاہے وہ تحریک لبیک والوں کا دھرنا ہو یا پھر لاپتہ افراد کا کیس ہو یا پھر کوئی اور مقدمہ جس میں کوئی آرمی کا نام لے لے، وہ آرمی کے خلاف ریمارکس ضرور دیتے تھے، جنرل (ر) امجد شعیب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا وہ بغض تھا جو افتخار چودھری کے وقتوں سے چلا آ رہا تھا۔ دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ اب ہو سکتا ہے کہ وہ دیکھ رہے ہوں کہ ان کے خلاف جو ریفرنسز ہیں، ان میں ان کے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے اسی وجہ سے انہوں نے ایسے بیانات دیے، ان کو ایسا لگا ہو گا کہ جانے سے پہلے وہ یہ دو کام کرسکتے ہیں، ایک یہ کہ پانی میں اس قدر گندگی پھیلا جائیں کہ اس میں کچھ نظر نہ آئے اور دوسرا یہ کہ وہ ایسی باتیں کر جائیں جس سے عوام کے نظریات اور ان کی سوچ پر اثر انداز ہوا جائے تاکہ ایک خاص پارٹی کو فائدہ پہنچایا جا سکے،

جس کے حق میں انہوں نے یہ ساری کہانی بیان کی، معروف دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز نے ایک گھناؤنی حرکت کی ہے، انہوں نے کہا کہ باہر سے پاکستان کے خلاف جو سازشیں کی جا رہی ہیں، جسٹس شوکت عزیز ان سازشوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ یہ ملک کے اندر رہتے ہیں اور ہماری ہی صفوں میں موجود ہیں۔ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ اگر کوئی شخص جسٹس شوکت عزیز کے پاس آیا تھا اور کہا تھا کہ ہم آپ کو چیف جسٹس بنوا دیں گے،

اگر کسی شخص نے ان کے پاس آ کر کہا تھا کہ فیصلہ ایسے نہیں ایسے کرنا ہے، اگر یہ اتنے ہی پارسا اور حاجی تھے تو ان کا کام تھا کہ اس شخص کو عدالت میں بُلوا کر توہین عدالت کا چارج لگاتے، اگر وہ شخص اپنا دفاع نہ کر پاتا تو اس کو سزا دے دیتے۔ دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ اس طرح اس بات کا فوری فیصلہ ہوجاتا اور دنیا کو پتہ بھی چل جاتا، انہوں نے کہا کہ لیگل ڈیپارٹمنٹ میں ہوتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز نے کوئی لیگل ایکشن کیوں نہیں لیا یہ خود ایک معزز عہدے پر بیٹھے ہوئے ہیں، دفاعی تجزیہ کار نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز نے قانونی راستہ اختیار نہ کرکے اور اس طرح بیان دے کر ایک سازش کی ہے اور میری نظر میں آج یہ خود مجرم ہیں۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…