بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

عام انتخابات سے پہلے ہی تحریک انصاف کی متوقع حکومت کے خلاف کنٹینر کی تیاریاں شروع،دو بڑی سیاسی جماعتوں نے دھماکہ خیز فیصلے کرلئے،کھلاڑی پریشان

datetime 21  جولائی  2018 |

کراچی (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے درمیان انتخابات میں ممکنہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کے حوالے سے رابطوں کا آغاز ہوگیا ہے ۔پیپلزپارٹی کی رہنما فریال تالپور اور رحمن ملک الیکشن نتائج کے فوری بعد احتجاجی تحریک شروع کرنے کی تجویز پر

مسلم لیگ (ن) کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق نواز لیگ اور پیپلز پارٹی رہنماؤں کے بیک ڈور چینل رابطے ہوئے ہیں ۔پیپلز پارٹی کی جانب سے رحمان ملک اور فریال تالپور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے ٹیلی فونک رابطے کررہے ہیں اور ممکنہ انجینئرڈ الیکشن نتائج کے خلاف مشترکہ جدوجہد شروع کرنے پر بات چیت جاری ہے ۔ دونوں جماعتوں کے رہنما پر ی پول رگنگ کے الزامات عائد کرچکے ہیں جبکہ ملک کی کئی مذہبی وسیاسی جماعتیں بھی حالیہ انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان الیکشن سے قبل یا نتائج کے فوری بعد تحریک شروع کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔پیپلز پارٹی اور نواز لیگ مشترکہ احتجاجی تحریک چلانے پر متفق ہوگئے تو دیگر کو بھی شامل کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی پی پی اور نواز لیگ کی حکمت عملی کامیاب ہوئی تو نگراں حکومت کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں اوراس مہم کے ڈریعے الیکشن کمیشن پر بھی دباو بڑھ سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…