جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ووٹ کیسے ڈالا جائے؟الیکشن کمیشن نے طریقہ کار جاری کردیا

datetime 21  جولائی  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات میں ووٹنگ کا طریقہ کار وضع کردیا، قومی اسمبلی کے بیلٹ پیپر کا رنگ سبز اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے بیلٹ پیپر کا رنگ سفید ہوگا۔تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن حکام کا کہنا تھا کہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے

بیلٹ پیپر کا رنگ سبز اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے بیلٹ پیپر کا رنگ سفید ہوگا۔ وضع کردہ طریقہ کار کے مطابق پہلے مرحلے میں پولنگ افسر ووٹر کا اصل قومی شناختی کارڈ چیک کرے گاجس کے بعد ووٹرلسٹ میں درج نام چیک کرے گا اور ووٹر کا نام اور سلسلہ نمبر پولنگ ایجنٹس کے لیے بلند آواز میں پکارا جائیگا پھر ووٹر کا سیدھی لکیر دے کر لسٹ سے نام کاٹ دیا جائے گا اورکاؤنٹر فائلر پر ووٹر کے انگوٹھے کا نشان لیا جائے گا، پھر انگوٹھے کے ناخن کے جوڑ پر ان مٹ سیاہی کا نشان لگایا جائے گا۔حکام کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلی کے لیے اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسر بیلٹ پیپر کی پشت پر دستخط کرے گا اوردستخط لینے کے بعد ووٹر کو سبز رنگ اور سفید بیلیٹ پیپر جاری کیا جائے گا جس پر ووٹر ووٹنگ سکرین کے پیچھے جا کر اپنے پسندیدہ امیدوار کے انتخابی نشان پر مہر لگائے گا۔الیکشن کمیشن کا مزیدکہنا تھاکہ اس کے بعد قومی اسمبلی کا سبز بیلٹ پیپر سبز ڈھکن والے جبکہ صوبائی اسمبلی کا سفید بیلٹ پیپر سفید ڈھکن والے باکس میں ڈالا جائے گا اور پولنگ کا عمل 25 جولائی کو صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک ہوگااور وقت ختم ہونے کے بعد پولنگ اسٹیشن کا دروازہ بند کر دیا جائے گا اورصرف پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…