بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

بیت المقدس میں فلسطینی شہری اپنے ہاتھوں سے اپنے گھر گِرانے پر مجبور، ہزاروںکو جبری ہجرت پر مجبور کر دیا گیا

datetime 19  جون‬‮  2018 |

مقبوضہ بیت المقدس(این این آئی)فلسطینی شیری جہاد شوامر نے 18 سال قبل بیت المقدس کے قصبے بیت حنینا کے علاقے الاشقریہ میں ایک پلاٹ خریدا تھا تا کہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے ایک ٹھکانے کا بندوبست کر لے۔ تاہم اسرائیلی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنا گھر منہدم کرنے پر مجبور ہے۔

اسرائیلی عدالت نے اس زمین کی یہودی آباد کاروں کے لیے ملکیت کی منظوری دے دی ہے۔قانون اور انسانی حقوق کے حوالے سے القدس امدادی مرکز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہ رواں برس اسرائیلی فوج نے بیت المقدس میں فلسطینیوں کی 63 تعمیرات منہدم کیں۔ اس کے نتیجے میں 51 فلسطینی مرد و خواتین کو جبری ہجرت پر مجبور ہونا پڑا۔ ہجرت کرنے والوں میں 21 کم عمر افراد بھی ہیں۔رپورٹ کے مطابق قابض حکام بیت المقدس شہر میں گھروں کے انہدام کی مسلسل کارروائیوں کو وہاں کے فلسطینی باسیوں سے خالی کرنے اور ان کو جبری ہجرت پر مجبور کرنے کے واسطے استعمال کر رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس میں ہزاروں فلسطینیوں کو اجازت نامہ نہ ہونے کے نام پر گھروں کے انہدام کے احکامات کا سامنا ہے۔ اس لیے کہ قابض اسرائیلی حکام کی بلدیہ منظّم طور پر فلسطینیوں کی جانب سے تعمیری پرمٹوں کے حصول کی کوشش مسترد کر رہی ہے۔اسرائیلی عدالت نے اس زمین کی یہودی آبادکاروں کے لیے ملکیت کی منظوری دے دی ہے۔قانون اور انسانی حقوق کے حوالے سے القدس امدادی مرکز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہ رواں برس اسرائیلی فوج نے بیت المقدس میں فلسطینیوں کی 63 تعمیرات منہدم کیں۔ اس کے نتیجے میں 51 فلسطینی مرد و خواتین کو جبری ہجرت پر مجبور ہونا پڑا۔ ہجرت کرنے والوں میں 21 کم عمر افراد بھی ہیں۔رپورٹ کے مطابق قابض حکام بیت المقدس شہر میں گھروں کے انہدام کی مسلسل کارروائیوں کو وہاں کے فلسطینی باسیوں سے خالی کرنے اور ان کو جبری ہجرت پر مجبور کرنے کے واسطے استعمال کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…