بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کون سی دو بڑی جماعتیں ملکر حکومت بنائیں گی ؟ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی حیران کن پیشن گوئی

datetime 18  جولائی  2018 |

لاہور (ویب ڈیسک) نامور تجزیہ کار سلمان غنی نے اپنی تحریر میں لکھا کہ چندہ مہم محض تحریک پیدا کرنے کیلئے ہے۔ کاش بروقت کالا باغ ڈیم کی تعمیر ہوتی تو آج ہم بجلی اور پانی کے بحران سے دو چار نہ ہوتے۔ قومی حکمرانوں نے بھی بڑے ڈیمز کی تعمیر کو محض سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کیا۔ اور سیاسی حکومتوں کی طرح ان کی اہمیت سے مجرمانہ غفلت برتی۔ آج تک کسی نے نہیں پوچھا کہ ہمارا لاکھوں کیوسک فٹ پانی سمندر میں گرتا رہا،

اسے کیوں بروئے کار نہ لایا گیا۔وہ دنیا نیوز سے خصوصی بات چیت کر رہے تھے۔ ڈاکٹر قدیرنے کہا لگتا ہے کہ ان انتخابات کے نتیجہ میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ہاتھ ملائیں گی اور ان کی مشترکہ حکومت بن سکتی ہے جوچل بھی سکتی ہے کیونکہ دو بڑے صوبوں میں ان کی گرفت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ نگران حکومتوں کو تو پریشان حکومتیں ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتسابی عمل کسی ایک جماعت یا خاندان تک محدود رکھنا درست نہیں جس نے جتنا ملک، قوم اور قومی سرمایہ کو نقصان پہنچایا اس سے اتنی ہی پوچھ گچھ ہونی چاہئے۔ بد قسمتی سے یہاں احتساب کی روایات ہی نہیں ڈالی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کو فریق نہیں بننا چاہئے اور اپنی آئینی حدود تک محدود رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کی پکڑ ہو سکتی ہے تو جنرل مشرف کی کیوں نہیں اس وجہ سے سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا اصل مسئلہ گورننس رہا مگر کسی نے اس اہم ایشو پر توجہ نہیں دی،اب اگر چیف جسٹس سلگتے عوامی مسائل پر توجہ مبذول کراتے ہیں، اجڑے سکولوں اور ہسپتالوں کے دورے پر جاتے ہیں تو سب کو تکلیف ہوتی ہے۔دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عمران خان کی غلط فہمی ہے کہ

وہ سازشیں کر کے وزیراعظم بن سکتے ہیں، اگر وہ اتنے ہی مقبول ہوتے تو انہیں اتنی سہولتیں دینے کی کیا ضرورت ہے۔لالہ موسیٰ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گالم گلوچ اور نفرت کی سیاست کر کے شاید قلیل المدت فائدہ اٹھالیا جائے اور یہ لاڈلے کی پرانی عادت ہے تاہم اس عمل سے قوم کو طویل المدت نقصان پہنچے گا۔ بلاول بھٹو زرداری

نے کہا کہ کٹھ پتلی اتحاد بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، خان صاحب کی غلط فہمی ہے کہ سازشیں کر کے وہ وزیراعظم بن سکتے ہیں، اگر وہ اتنے ہی مقبول ہوتے اور عوام ان کے ساتھ ہوتے تو انہیں اتنی سہولتیں دینے کی کیا ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ہو یا جی ڈی اے وہ آزادانہ انتخابات میں مقابلہ نہیں کرسکتے، جو بھی سازشیں ہورہی ہیں ایک دن ان کے ثبوت سامنے لائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…