ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

نوازشریف اور مریم نواز کیساتھ لندن کے بعد پہلے سٹاپ پر کیا کچھ ہوا؟ سابق وزیر اعظم جہاز سے اترنے کے بعد پہلے 2کونسے کام کرنا چاہتے تھے؟ سابق مشیر خاص عرفان صدیقی نے آنکھوں دیکھا حال بتادیا

datetime 17  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دی نیوز کے رپورٹر فخر درانی کے مطابق نوازشریف اور مریم نواز کی لندن سے واپسی کے موقع پر ان کے ہمراہ عرفان صدیقی بھی موجود تھے جو تمام سفر میں ان کے ساتھ رہے ۔ سابق وزیر اعظم کےمشیر خاص عرفان صدیقی کے مطابق  جیسے ہی وہ لندن کے بعد پہلے اسٹاپ پہنچےسابق وزیر اعظم نوا زشریف اور ان کی بیٹی مریم نوا ز کو وی آئی پی پروٹوکول افسران نے اپنے حصار میں لے لیااور انہیں ایئرپورٹ کے وی آئی پی لائونج میں لے آئے۔

عرفان صدیقی نے بتایا کہ ہماری اچھی طرح سے نگرانی کی جارہی تھی۔وہاں درجنوں قومی اور بین الاقوامی میڈیا نمائندگان موجود تھے جو نواز شریف سے بات کرنا چاہتے تھے لیکن کسی کو بھی بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔یہاں تک کے نواز شریف کو بھی یہ غیر معمولی نگرانی محسوس ہوئی اور انہوں نے پروٹوکول چیف سے اس بارے میں دریافت کیا۔تاہم پروٹوکول افسر نے ان سے کہا یہ انہیں اوپر سے احکامات آئے ہیں۔ہمارے پاسپورٹس اور بورڈنگ پاسز لندن سے پہلے اسٹاپ کے پروٹوکول اسٹاف نے اپنے قبضے میں لے لیے تھے۔سابق مشیر خاص کے مطابق نواز شریف کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ ایئرپورٹ کے باہر اپنے حامیوں سے گفتگو کریں گےاور اپنی ماں کو سلام کریں گے، جس کے بعد صبح سویرے وہ اپنے آپ کو نیب لاہور کے حوالے کردیں گے۔تاہم جہاز کے باہر آتے ہی منظر بالکل مختلف تھا۔جہاز کو رینجرز، اے ایس ایف اور ایلیٹ فورس کے جوانوں نے گھیرے میں لے رکھا تھا۔عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ تقریباً15منٹ بعد کچھ مرد اور خواتین یونیفارم پہنے جہاز میں داخل ہوئے۔نواز شریف نے انہیں بتایا کہ وہ گرفتار ی دینے ہی یہاں آئے ہیں ، تو پھر ملک کو میدان جنگ کیوں بنایا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے اپنے ذاتی ملازم عابد اللہ اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو ہدایات دیں کہ وہ ان کے ساتھ رہیں تاہم انہیں اجازت نہیں دی گئی۔عرفان صدیقی کے مطابق، نواز شریف نے بھی اپنے ذاتی معالج کو ساتھ رکھنے کی اجازت مانگی مگر پھر بھی انہیں اجازت نہیں دی گئی۔یہاں تک کے انہیں اپنی دوائیاں تک ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔واضح رہے کہ نوازشریف کو اڈیالہ جیل میں بی کیٹیگری دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…