ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

’’وہیں رک جاؤ ہلنا مت‘‘ نوازشریف اور مریم نواز کیساتھ جہا ز کے اندر اور نیچے اتارے جانے کے بعد بکتر بندگاڑی میں بھی بدسلوکی کئے جانے کا انکشاف،دونوں کو جب اڈیالہ جیل لے جایاگیا تو راستے میں کیا کچھ ہوا؟حیرت انگیز تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 17  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والے نواز شریف اور مریم نواز کے ساتھ اسلام آباد ائیرپورٹ پر برا سلوک کئے جانے کا انکشاف،انگریزی اخبار دی نیوز کے رپورٹر فخر درانی کے مطابق سابق وزیر اعظم کو ذاتی معالج اور دوائیاں بھی ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ نواز شریف اور ان کی بیٹی کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کی توقع نہیں کی جارہی تھی۔

جیسے ہی نواز شریف اور ان کی بیٹی خصوصی چارٹرڈ طیارے سے باہر آئے انہیں بلند آواز میں احکامات دیئے گئے کہ ’’وہیں رک جائو‘ہلنا مت‘‘۔دونوں باپ بیٹی یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ متعدد کیمروں کی لائٹیں ان پر پڑ رہی تھیں۔مریم نواز نے سوال کیا کہ میڈیا یہاں کیسے آیا؟بعد میں انہیں علم ہوا کہ جو لوگ متعدد رخ سے ان کی تصاویر بنا رہے تھے وہ کسی میڈیا کےنمائندے نہیں تھے۔وہاں دو علیحدہ علیحدہ ایس یو وی ان کا انتظارکررہی تھیں۔نواز شریف نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مریم کو ان کے ساتھ ،ایک ہی کار میں بٹھایا جائے۔تاہم ان کی یہ درخواست سختی سے مسترد کردی گئی اور انہیں بتایا گیا کہ یہ صرف لاجسٹک انتظامات ہیں ، آپ دونوں کو ایک ہی جگہ لے کر جائیں گے۔نیب حکام جو کاریں لائے تھے انہیں ایس یو ویز سے آخری لمحات میں تبدیل کردیا گیا۔تاہم نواز شریف کے لیے سب سے پریشان کن لمحہ وہ تھا جب انہیں اس بات کا علم ہوا کہ چیف کمشنر اسلام آباد نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا ، جس کے مطابق مریم نواز کو سہالہ ریسٹ ہائوس لے کر جائیں گے۔انہوں نے اصرار کیا کہ مریم نوا زکو ان کے ساتھ ہی اڈیالہ جیل لے کر جائیں، تاہم حکام اس بات پر بضدتھے کہ مریم نواز کو سہالہ ریسٹ ہائوس ہی لے کر جائیں گے۔جب یہ مسئلہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آیا تو اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا۔

تاہم  بدسلوکی یہاں پر ختم نہیں ہوئی۔نواز شریف سے ایس یو وی کے درمیان بیٹھنے کا کہا گیا۔انہیں دو صحت مند آدمیوں کے درمیان سینڈوچ بنادیا گیا اور بتایاگیا کہ ایسا سیکورٹی وجوہات کے سبب ضروری ہے۔ایک 68برس کے شخص کے ساتھ اڈیالہ جیل کے 50کلومیٹر کے فاصلے کے لیے یہ بہت مشکل تھا۔جیل جاتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے ان سے کہا کہ انہیں ان کی بیٹی سے ایک مرتبہ ملادیا جائے۔انہیں یقین تھا کہ ان کی درخواست قبول کرلی جائے گی۔

انہوں نے یہی درخواست بعد میں دو مرتبہ پھر کی۔بالآخر انہوں نے ایک عہدیدار سے وعدہ لیا کہ وہ ان کی ملاقات مریم نواز سے کرائیں گے۔یہ وعدہ جلد ہی وفا ہوگیا جب عہدیدار دونوں کو میڈیکل چیک اپ کے لیے لے کر گئے۔ذرائع کے مطابق، اس علیحدگی پر مریم نواز بھی پریشان ہوگئی تھیں ، تاہم جیسے ہی انہوں نے نواز شریف کو دیکھا ان کی مسکراہٹ لوٹ آئی۔واضح رہے کہ نوازشریف ،مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اس وقت اڈیالہ جیل میں سزا بھگت رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…