ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں مزید توسیع نہیں کی جائیگی،اثاثے ظاہر نہ کرنیوالوں کیخلاف بھرپور کارروائی کا فیصلہ،دھماکہ خیز اعلان کردیاگیا

datetime 16  جولائی  2018 |

لاہور( این این آئی)چیئر پرسن فیڈرل بورڈ آف ریو نیو رخسانہ یاسمین نے کہا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا اور اس میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی،عالمی اداروں کے تعاون سے غیر ملکی اثاثوں کے بارے میں ہر طرح کی معلومات موجود ہیں اورسکیم کی مدت ختم ہونے کے بعد اثاثے ظاہر نہ کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی ،

اب ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی ٹیکس نہ دے اور پانچ کروڑ روپے کا مکان بھی خرید لے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ آف پاکستان کے وفد سے اجلاس کے دوران کیا ۔چیئر پرسن ایف بی آر رخسانہ یاسمین نے کہا کہ 30جون تک 50سے 53ہزار افراد نے ٹیکس ایمسنٹی سکیم سے فائدہ اٹھایا جبکہ توسیع کے بعد اب تک صرف 2ہزار افراد نے استفادہ کیا ۔پنجاب سے بھی اس کے خاطر خواہ نتائج نہیں ملے ،بڑے شہروں فیصل آباد،گوجرانوالہ،سیالکوٹ اور ملتان سے بالکل استفادہ نہیں کیا گیا ، لاہور اس سکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کے حوالے سے قدرے بہتر ہے جبکہ کراچی اس میں سر فہرست رہا ۔انہوں نے واضح کیا کہ 31جولائی کے بعد ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی ۔ ایف بی آر کے پاس عالمی اداروں کی جانب سے غیر ملکی اثاثوں کے بارے میں فراہم کردہ معلومات موجود ہیں اورمدت ختم ہونے کے بعد ان معلومات کی مدد سے اثاثے ظاہر نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور کوئی بھی اثاثے چھپانے والا نہیں بچ سکے گا۔ اب ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی ٹیکس نہ دے اور پانچ کروڑ روپے کا مکان بھی خرید لے ۔ انہوں نے کہا کہ آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ تنظیم (اوای سی ڈی )نے پاکستانی قومیت کے حامل افراد کی انگلینڈ اور دبئی سمیت دیگر ممالک میں اثاثوں کی معلومات فراہم کر دی ہیں۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت اثاثے ظاہر نہ کرنے والوں کے لئے آخری موقع ہے اور وہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں ،اگر اس میں کوئی مسئلہ یا رکاوٹ ہے تو آگاہ کیا جائے ،

ابھی وقت ہے ہم اسے حل کر دیں گے۔ اجلاس میں انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ایف آئی اے کے ساتھ اثاثے چھپانے والوں کی فہرست دیکھی ہے اور یہ معلومات عدلیہ کے پاس بھی موجود ہیں اس لئے بزنس کمیونٹی آخری موقع سے فائدہ اٹھالے۔اس موقع پر ایف بی آر کے ممبر آئی ٹی خواجہ عدنان ظہیر نے کہا کہ اس سکیم کے تحت 97ارب روپے وصول ہوئے ہیں جس میں 40فیصد بیرون ملک پاکستانیوں اور 60فیصد اندرون ملک مقیم پاکستانیوں سے وصول ہونے والا ریو نیو ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…