بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

لاہور میدان جنگ بن گیا ، صورتحال انتہائی کشیدہ،پولیس کا لاٹھی چارج اور شیلنگ متعدد زخمی‎

datetime 13  جولائی  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور ائیرپورٹ کے قریبی علاقوں، شاہد رہ بابو صابو انٹرچینج پر صورتحال انتہائی کشیدہ ، ڈی ایچ اے فیز 8 میں ن لیگ کے کارکنوں اور پولیس میں جھڑپ ، ن لیگ کارکنوں کا پتھراؤ ، پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج، ن لیگ کے رہنما حافظ نعمان سمیت متعدد کارکن زخمی، اس سے قبل سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے استقبال کے لیے جانے والے لیگی رہنماؤں اور کارکنوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ،

نگران حکومت کی جانب سے جگہ جگہ رکاوٹیں رکھی گئی تھیں اس کے علاوہ موٹر وے اور جی ٹی روڈ کے بھی کچھ حصوں کو بند کر دیا گیا تھا ، اس ن لیگ کے کئی کارکن اور رہنما لاہور ہی نہ پہنچ سکے ، اس سے قبل حکومت نے لیگی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں بھی کی تھیں لیکن ہائی کورٹ کے حکم کے بعد انہیں چھوڑنا پڑا، لاہور میں بعض مقامات پر پولیس اور لیگی کارکنوں میں نونک جھونک بھی دیکھنے میں آئی، لیگی کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پولیس کی ایک گاڑی کے شیشے بھی توڑ دیے، مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے ریلی کی قیادت کی ان کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں لوگ تھے ، غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق ان کے ساتھ دس ہزار کے قریب افراد تھے، شہباز شریف ریلی میں سب سے آگے گاڑی میں موجود رہے اور لیگی رہنما کنٹینر پر موجود تھے ، اس کنٹینر پر پرویز رشید، طلال چوہدری، خواجہ سعد رفیق، مریم اورنگزیب سمیت دیگر رہنما موجود تھے۔ اس موقع پر کارکنوں کی بڑی تعداد نے نعرے بازی کی اور شہباز شریف کی گاڑی پر پھول نچھاور کئے۔ واضح رہے کہ پنجاب بھر میں سکیورٹی فورسز اور پولیس نے کریک ڈاؤن کیا، لاہور جانیوالے ن لیگ کے متعدد رہنماؤں و کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق فیصل آباد میں تاندالیانوالہ کے مقام پر پولیس کی بھاری نفری نے نواز شریف کے استقبال کیلئے لاہور جانیوالے ن لیگ کے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس کی بھاری نفری نے اچانک ن لیگی کارکنوں کے قافلے کو گھیرے میں لیکر پکڑ دھکڑ شروع کر دی۔



کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…