جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ان لوگوں کو فوراً پھانسی پر لٹکا دو ! آرمی چیف نے بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 13  جولائی  2018 |

راولپنڈی(آئی این پی ) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فورسز پر حملوں اور تعلیمی اداروں کی تباہی میں ملوث 12 خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ،دہشت گردوں نے بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیلوں پر بھی حملے کئے، ان دہشتگردوں میں غنی رحمان، عبدالغازی، ضیا الرحمان، جاوید خان، محمد زبیر، عمر نواز، ساجد خان، ہیبت خان، احمد شاہ،

باز محمد، مومن خان اور سلیمان بہادر شامل،مجموعی طور پریہ دہشت گرد 7 شہریوں اور 92 سیکیورٹی اہلکاورں کے قتل میں ملوث ہیں جب کہ ان کے حملوں میں 58 افراد زخمی بھی ہوئے ،ان دہشت گردوں کو فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سربراہ پاک آرمی جنرل قمر جاوید باجوہ نے 12خطرناک دہشت گردوں کو سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔ ان دہشت گردوں کو خصوصی فوجی عدالتوں نے سزا ئیں سنائیں جب کہ 6 دہشت گردوں کو قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ دہشت گرد فورسز پر حملوں اورتعلیمی اداروں کی تباہی میں ملوث تھے اور انہوں نے بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیلوں پر بھی حملے کئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے مجموعی طور پر 7 عام شہریوں اور 92 سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید اور ان کے حملوں میں 58 افراد زخمی بھی ہوئے۔ عبدالغازی ولد سبیل خان لیفٹیننٹ کرنل یوسف اور دیگر جوانوں کے قتل میں ملوث تھا جب کہ ضیا الرحمان ولد پیرزادہ اور جاوید نور ولد نورزادہ ایس پی بنوں سمیت 7 اہلکاروں کے قتل میں ملوث تھا۔ غنی رحمان ولد فضل رحمان بنوں اور ڈی آئی خان جیل پر حملوں میں ملوث تھا اور اس کے دہشتگرد حملے میں کیپٹن فصیح سمیت 4 فوجی شہید جب کہ 12 زخمی ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…