ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

وہی ہوا جس کا مجھے خدشہ تھا، نواز شریف کے خلاف فیصلے میں جج اور نیب نے ایسا کیا، کیا جس سے فائدہ اب نواز شریف کو ہی ہو گا؟ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 11  جولائی  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی کے سربراہ اور سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہا کہ نواز شریف کے خلاف میری جماعت نے ہی ریفرنس دائر کیا تھا اور یہ سلسلہ چلتا رہا اور یہ فیصلہ آ گیا۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ اس فیصلہ پر میر ے خدشات درست ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر فیصلہ دے دیا گیا۔

سابق چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کی طرف سے جتنے بھی شواہد پیش کیے گئے ان میں پختگی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے اتنی سرگرمی نہیں دکھائی جتنی دکھانا چاہیے تھی۔ افتخار چوہدری نے کہا کہ میاں نواز شریف کے بارے ایک لفظ نہیں کہا گیا کہ یہ جائیداد ان کی ہے۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حدیبیہ پیپرز کا کیس اس لیے نہیں چلا تھا کہ جج نے کہا تھا کہ ہائی کورٹ میں ان کے خلاف کوئی شہادت نہیں آئی، اس لیے یہ کیس نہیں کھل سکتا۔ انہوں نے پروگرام میں کہا کہ ان کے خلا ف کرپشن کے الزامات تھے، ان کو نیب کی جانب سے ثابت کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کے خلاف اس حوالے سے ایک بھی شہادت پیش نہیں کی گئی۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ہے تو پھر آپ ان کو سز ائیں کیسے دے رہے ہیں۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہت ہی کمزور فیصلہ ہے، جج صاحب نے شاید جلد باز ی میں یہ کیا ہے اور انہوں نے انصاف سے کام نہیں لیا۔ ایک طرف تو ان کو کرپشن سے بری کر رہے ہیں اور دوسری جانب انہیں سزا بھی دے رہے ہیں، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ کیلبری فونٹ کے حوالے سے جو گواہ آیا اس کے بیان کا ایک لفظ بھی نہیں لکھا گیا اور پھر مریم نواز کو بھی سزا دے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے، انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ جب آپ انصاف کر رہے ہیں تو دشمن بھی سامنے کھڑا ہے تو پھر بھی آپ کو انصاف کرنا چاہیے۔ پروگرام کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ اتنا کمزور فیصلہ ہے کہ اگر ہائی کورٹ چاہے تو اسے معطل بھی کر سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…