جمعرات‬‮ ، 12 مارچ‬‮ 2026 

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے این آر او کیس میں جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا ،اصل مقصد کیا تھا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 10  جولائی  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے این آر او کیس میں جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا جس میں اس وقت کیے گئے اقدامات کو قانونی قرار دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں این آر او (قومی مفاہمتی آرڈیننس) سے متعلق درخواست دائر کی گئی تھی جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ این آر او کی وجہ سے ملک کا اربوں کا نقصان ہوا لہٰذا قانون بنانے والوں سے نقصان کی رقم وصول کی جائے۔

عدالت نے درخواست گزار پر ابتدائی سماعت کے بعد 24 اپریل کو سابق صدور آصف زرداری اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو نوٹس جاری کیے تھے ٗ آصف زرداری اور دیگر نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب بھی جمع کرادیا ہے۔ منگل کو سابق صدر پرویز مشرف نے بھی این آر او کیس میں جواب جمع کرادیا ہے جس میں کہا گیا کہ این آر او سیاسی انتقام کے خاتمے اور انتخابی عمل شفاف بنانے کے لیے جاری کیا، این آر او کے اجراء میں کوئی بدنیتی اور مفاد شامل نہیں تھا۔جواب میں کہا گیا کہ این آر او آرڈیننس اس وقت کے حالات کو مدنظر رکھ کرجاری کیا، اس وقت کیے گئے اقدامات قانون کے مطابق تھے لہٰذا این آر او سے متعلق درخواست خارج کی جائے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے این آر او کیس میں آصف زرداری اور پرویز مشرف کے بیرون ملک اثاثوں اور جائیداد کی تفصیلات بھی طلب کررکھی ہیں۔یاد رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 5 اکتوبر 2007 کو قومی مفاہمتی آرڈیننس جاری کیا جسے این آر او کہا جاتا ہے، 7 دفعات پر مشتمل اس آرڈیننس کا مقصد قومی مفاہمت کا فروغ، سیاسی انتقام کی روایت کا خاتمہ اور انتخابی عمل کو شفاف بنانا بتایا گیا تھا ٗ اس قانون کے تحت 8 ہزار سے زائد مقدمات بھی ختم کیے گئے۔این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں نامی گرامی سیاستدان شامل ہیں ٗ اسی قانون کے تحت سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کی واپسی بھی ممکن ہوسکی تھی۔این آر او کو اس کے اجرا کے تقریباً دو سال بعد 16 دسمبر 2009 کو سپریم کورٹ کے 17 رکنی بینچ نے کالعدم قرار دیا اور اس قانون کے تحت ختم کیے گئے مقدمات بحال کرنے کے احکامات جاری ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…