جمعرات‬‮ ، 12 مارچ‬‮ 2026 

گزشتہ پانچ سال ۔۔پاکستان مسلم لیگ (ن) ، پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی حکومتوں کی کارکردگی کیسی رہی؟تھنک ٹینک آئی پی آر کی رپورٹ جاری،افسوسناک انکشافات

datetime 10  جولائی  2018 |

لاہور (این این آئی) تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے 2013کے انتخابات میں مختلف پارٹیوں کی طرف سے پیش کردہ منشور اور اس پر ہونے والے عمل درآمد کے بارے میں ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے ،اس رپورٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) ، پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی طرف سے 2013ء کے انتخابات کے سلسلے میں پیش کیے جانے والے منشور اور وعدوں پر کس حد تک عمل ہوا ہے، تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔

آئی پی آر کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سیاسی جماعتیں بڑے اہتمام کے ساتھ اپنا منشورپیش کرتی ہیں جبکہ اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا ۔2013کے انتخابات کے سلسلے میں پیش کردہ منشور میں تینوں پارٹیوں نے اپنے اپنے منشور کا تقریباً چوتھا ئی حصے پر عمل درآمد کیا ہے۔ جبکہ دیگر تین حصوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ۔مسلم لیگ ن کی طرف سے کیے گئے بلندو بانگ دعوے کے اس کے پاس معاشی ماہرین کی ٹیم ہے لہذا یہ ٹیم صرف میکرو اکنامکس کا بیس فیصد حاصل کر سکی، جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے وہ سماجی ڈویلپمنٹ اور غربت کے خاتمے کا دعوی کرتی ہے تو اس سلسلے میں پیپلز پارٹی نے اپنے منشور کا علی الترتیب 20 اور 30فیصد حاصل کر سکی۔پاکستان کے اندر2016 اس وقت حیران کن صورتحال پیدا ہوئی جب لٹریسی ریٹ پہلے کی نسبت نیچے گر گیا اسی طرح دوسرے شعبوں کا بھی یہی حال ہے ۔سافٹ اور فزیکل انفارسٹریکچر ڈویلپمنٹ بھی ضروریات کے مطابق اپنا ہدف حاصل نہیں کر سکے ۔یہ وعدے کیے گئے کہ کاروبار پر کاسٹ کو کم کیا جائے گا لیکن یہ وعدہ بھی وفا نہ ہو سکا ۔ پچھلے پانچ سال میں معاشی طور پر پاکستان کا ورلڈ بنک میں درجہ تنزلی کا شکار ہوا نیز یونائیٹیڈ نیشن ڈویلپمنٹ پروگرام اور ایچ ڈی آئی کے انڈیکس بھی نیچے گرے

یہ دونوں کسی ملک کی معیشت کیلئے اہم اشاریے سمجھے جاتے ہیں ۔البتہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے دور میں بجلی کی پیداوار زیادہ ہوئی لیکن اس میں بھی پاور پالیسی اور گورننس کے شعبے انتہائی کمزور رہے ۔ اسی طرح پیپلز پارٹی نے بھی چار ہزار بے زمین کاشتکاروں کو وعدے کے مطابق زمین دی ۔پی ٹی آئی نے ہیلتھ سروسز میں اور شجر کاری میں بہت اچھی کار کردگی دکھائی لیکن اس کے باوجود پارٹیوں نے جو وعدے کیے تھے

ان سے بہت پیچھے رہیں ۔آئی پی آر کی ریسرچ کے مطابق جونہی الیکشن گزر جا تا ہے تو پارٹیاں اپنا منشور بھول جاتی ہیں اگر اس سلسلے میں سنجیدگی سے کام لیا جائے اور اپنے منشور کر ساتھ لیکر چلا جائے تو بہتر طریقے سے کام سرانجام دیاجا سکتا ہے۔ بظاہر تو پارٹی منشور ایک با معانی اور جامع دستاویز ہوتی ہے لیکن یہ ایک بے معنی سی چیز ہو کر رہ گئی ہے مثال کے طور پر کسی منشور میں یہ نہیں لکھا ہوتا کہ لوگوں کی ضروریات کو کیسے شناخت کیا گیا ہے

اور نہ ہی منشور کے اند ر کوئی ایسی منصوبہ بندی بیان کی جاتی ہے کہ وہ بیان کیے گئے اہداف کو کیسے حاصل کیا جائے گا ۔آئی پی آر کی رپورٹ میں اس چیز کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ منشور کے اندر ایک نقطہ دوسرے نقطے کے ساتھ مطابقت بھی نہیں رکھتا ۔ مثال کے طور پر منشور میں بڑا وعدہ کیا جاتا ہے کہ لوگوں کو نئی سروسز مہیا کی جائینگی لیکن دوسری طرف یہ کہا جاتا ہے کہ خرچے بھی کم کیے جائینگے

لہذا دونوں چیزے ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتیں ہیں۔اسی طرح منشور میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نئی نوکریاں پیدا کی جائینگی لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ نئی نوکریاں کہاں اور کیسے پیدا کی جائینگی ۔ منشور میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گورننس کو بہتر کیا جائے گا جیسے کہ سول سروس اور پولیس وغیرہ جبکہ یہ نہیں بتایا جاتا کہ ان کی پارٹی کے اندر جو سیاسی بھوکے ہیں ان کو کیسے مطمئن کیاجائے گا ۔ اسی طرح بلدیاتی اداروں کے بڑے دعوئے کیے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر اس پر عمل نہیں کیا جاتا ۔آئی پی آر کی رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے منشور کو سنجیدگی سے نہ نہیں لیتی اور نہ ہی اس کو با معنی دستاویز بنانا چاہتیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…