جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

نوازشریف اگر واپس آگئے تو ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟آصف زرداری بھی پھنس چکے ان کے بعداب عمران خان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 9  جولائی  2018 |

آج سے پاکستان میں سیاسی جماعتوں اور قائدین کے امتحان کا سیزن شروع ہو گیا ہے‘ میاں نواز شریف سزا یافتہ ہو چکے ہیں‘ یہ 13 جولائی کو واپس آئیں گے تو انہیں جہاز ہی سے گرفتار کر لیا جائے گا‘  ان کی گرفتاری پر جو امیدوار احتجاج کرے گا، اس کے خلاف مقدمہ درج ہو جائے گا‘ کیا میاں نواز شریف واقعی لیڈر ہیں‘ کیا یہ واقعی دلوں کی دھڑکن ہیں‘ یہ فیصلہ 13 جولائی کو ہو گا چنانچہ 13جولائی سے میاں نواز شریف کا امتحان شروع ہو رہا ہے‘

آصف علی زرداری کے خلاف بھی منی لانڈرنگ کا کیس کھل چکا ہے‘ ان پر الزام ہے۔ انہوں نے تین بینکوں کے 29 اکاؤنٹس کے ذریعے 35 ارب روپے ٹرانسفر کرائے‘ سپریم کورٹ نے آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سمیت 35 افراد کا نام ای اسی ایل میں بھی ڈلوا دیا اور انہیں 12 جولائی کو کورٹ میں پیش ہونے کا حکم بھی دے دیا لہٰذا آصف علی زرداری کا امتحان بھی شروع ہو گیا اور تیسرا امتحان عمران خان کا ہے‘ ان کے مقابلے میں موجود دونوں بڑی ٹیمیں فارغ ہو چکی ہیں‘ اب ان کے پاس ٹیم بھی اپنی‘ گراؤنڈ بھی اپنا‘ ایمپائر بھی اپنا اور تماشائی بھی اپنے ہیں چنانچہ یہ اگر اب بھی وزیراعظم نہیں بنتے تو پھر انہیں ریٹائرمنٹ لے لینی چاہیے‘ امتحانات کے اس سیزن میں کون کامیاب ہو گا اور کون ناکام یہ ہمارا آج کا موضوع ہو گا جبکہ عمران خان نے آج اپنا پارٹی منشور پیش کر دیا‘ عمران خان کا کہنا تھا کہ کہ فلاحی ریاست کا نمونہ مدینہ کی ریاست ہے،سب سے بڑا چیلنج پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا ہے،اصولوں سے پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں گے ،پانچ سال میں 50 لاکھ گھر بنائیں گے،گھر بنانے کیلئے باہر سے بلڈرز کی خدمات لی جائیں گی ،اس وقت ایک سے ڈیڑھ کروڑ گھروں کی پاکستان میں کمی ہے۔ ہمیں پاکستان میں ایک کروڑ نوکریاں پیدا کرنی ہیں،جب تک فلاحی ریاست نہیں ہوگی تواستحکام نہیں آئےگا،کرپشن کےخلاف ہماری جدوجہد 22 سال کی ہے،جس طرح ہم حکومتیں چلارہے ہیں اسے یکسر تبدیل کرنا ہوگا۔ یہ اقدامات واقعی ضروری ہیں لیکن یہ ہوں گے کیسے اور کرے گا کون؟‘ یہ سوال بہت اہم ہے‘ ہم آج کے پروگرام میں یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…