نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بھارت کے سابق کرکٹرز اور عہدیدار اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ کوئی بھی حریف کرکٹ لیگ اس کھیل کے عالمی مقابلوں یا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی طاقت کےلئے خطرہ ہو سکتی ہے ¾بھارت میں ماضی میں بھی ایسی کوشش کی گئی تھی جو کامیاب نہیں ہو سکی۔
اطلاعات کے مطابق ارب پتی بھارتی کارباری شخصیت سبھاش چندرا کی جانب سے ایک حریف کرکٹ سسٹم متعارف کروائے جانے کی منصوبہ بندی کی اطلاعات ناقابل اعتبار ہیں کیونکہ کچھ سال پہلے چندرا کے ایسل گروپ کی جانب سے شروع کی گئی ٹی ٹوئنٹی لیگ بھی ناکامی سے دوچار ہوئی اور متعدد کھلاڑیوں کو لاکھوں ڈالرز کے واجبات بھی ادا نہیں کیے گئے۔برطانیہ اور آسٹریلیا سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق ایسل گروپ نے حال ہی میں کئی ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک میں اپنی کمپنی کو رجسٹرڈ کروایا جس کا مقصد ان ممالک کے بہترین کھلاڑیوں کو اپنی نئی عالمی ٹی ٹوئنٹی لیگ میں شامل کرنا ہو سکتا ہے۔بی سی سی آئی کے سابق سیکریٹری نرنجن شاہ نے کو بتایا کسی کو بھی نیا سسٹم بنانے سے روکا نہیں جا سکتا تاہم جو سسٹم قائم ہو چکا ہے اسے ختم کرنا بہت مشکل ہے۔ادھر سبھاش چندرا کے ایکسل گروپ کی جانب سے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ کھیلوں کا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں جس کا مقصد اس کھیل کو عالمی سطح پر فروغ دینا ہے۔
بیان میں خطیر تنخواہیں دینے والے ’حریف لیگ‘ کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی تھی۔دوسری جانب آئی سی سی نے بھی گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ایکسل گروپ کی جانب سے مختلف ممالک میں رجسٹریشن کے معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے تاہم بی سی سی آئی کے سیکریٹری انوراگ ٹھاکر کا کہنا ہے کہ وہ ایکس گروپ کی جانب سے کیے جانے والے ممکنہ اقدامات کے بارے میں فکر مند نہیں ہیں انوراگ ٹھاکر نے بتایا کہ صرف آئی سی سی ہی کرکٹ کی گورننگ باڈی ہے۔انہوںنے کہاکہ ماضی میں بھی ایسی کوششیں کی گئیں تاہم سب نے دیکھا کہ چاہے وہ 2007 سے 2009 تک منعقد ہونے والی انڈین کرکٹ لیگ (آئی سی ایل) ہو یا پھر 70 کی دہائی کی ورلڈ سیریز کرکٹ ہو، سب کیسے ناکام ہوئیں۔اگرچہ باغی آئی سی ایل لیگ کے دونوں سیزن میں متعدد بھارتی اور غیر ملکی کھلاڑیوں نے حصہ لیا تاہم وہ انھیں معاہدے کی رقم دینے میں ناکام رہی۔بھارت کے سابق آل راو¿نڈر مدن لال کے مطابق کسی بھی نئی لیگ کے لیے کھلاڑیوں کا اعتماد حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہےمدن لال نے بتایا کہ بہت سے کھلاڑیوں نے آئی سی ایل کی وجہ سے اپنے کریئر داو¿ پر لگائے مگر آئی سی ایل نے ان کی پروا نہیں کی یہی وجہ ہے کہ اب کھلاڑیوں ایسا کرنے سے قبل 10 مرتبہ سوچیں گے۔مدن لال کے مطابق آئی سی ایل ابھی تک ان کی مقروض ہے اور کسی بھی نئی لیگ کوخود کو ثابت کرنے کے لیے آٹھ سے دس سال کا عرصہ درکار ہو گا۔بھارت کے سابق آل راو¿نڈر کے مطابق بھارت میں بی سی سی آئی سے کھلاڑیوں کو ورغلانا بہت مشکل ہے۔انڈین پریمیر لیگ کے معمار للت مودی نے گذشتہ ہفتے برطانوی اخبار گارڈین کو بتایا کہ ایسا کوئی بھی آئیڈیا قابلِ عمل نہیں
بھارت ،باغی لیگ آئی سی سی کے لیے خطرہ نہیں، سابق کرکٹر
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
امریکا فرارہونے کی کوشش میں لاہور ایئرپورٹ سےگرفتار ہائی پروفائل شخصیا ت کے کیس میں ڈرامائی موڑ
-
مہنگے پیٹرول کی چُھٹی، پاکستان اور چین کے درمیان بڑا معاہدہ طے پا گیا
-
عوام کے لیے اہم خبر، پیٹرولیم ڈویژن کی نئی اپڈیٹ جاری
-
بھارت میں حسن علی پر تشدد کی افواہوں کے بعد اہلیہ کی لب کشائی
-
تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی تعطیلات میں توسیع ہوگی یانہیں؟اہم خبر آگئی
-
معروف سابق ماڈل کی افسوسناک حالت نے سب کو چونکا دیا، کہانی آپ کو افسردہ کردے گی
-
حکومت کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں، الائونسز میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری
-
موبائل فون صارفین کے لیے خوشخبری، بڑی سہولت مل گئی!
-
سونے کی قیمت میں آج بھی حیران کن اضافہ
-
پیٹرولیم مصنوعات کی یومیہ قیمتیں، اہم مذاکرات
-
راولپنڈی: کرایہ ادا نہ کرنے پرغیرملکی خاتون اور ٹیکسی ڈرائیور میں مار کٹائی، ویڈیو وائرل
-
لامین یمال کے والد کی عمر جان کر مداح حیران، سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی
-
Cognitive Manipulation
-
اسٹار فٹبالر لامین یامال کی گرل فرینڈ انیس گارسیا کا پیغام سوشل میڈیا پر وائرل



















































