منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

کیا ممتاز قادری کے اہل خانہ نے شیخ رشید کی حمایت کا اعلان کر دیا؟ غازی ممتاز اور عامر چیمہ شہید کے اہل خانہ اس الیکشن میں کس پارٹی کی سپورٹ کر رہے ہیں اور عوام سے کیا اپیل کی ہے؟راولپنڈی سے بڑی خبر آگئی

datetime 28  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)راولپنڈی کے انتخابی امیدوار کے تحفظ ناموس رسالتؐ کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے غازی ملک ممتاز قادری شہید اور غازی عامر چیمہ شہید کے اہلخانہ کی عام انتخابات میں حمایت کے دعوے، شہدا کے اہل خانہ کا بھی مؤقف سامنے آگیا۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے انتخابی امیدوار کے تحفظ ناموس رسالتؐ کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے

غازی ملک ممتاز قادری شہید اور غازی عامر چیمہ شہید کے اہلخانہ کی عام انتخابات میں حمایت کے دعوےسامنے آنے کے بعد شہدا کے اہل خانہ کا بھی مؤقف سامنے آگیا ہے اور انکے گھر والوں کا دو ٹوک کہنا ہے کہ وہ الیکشن میں کسی بھی پارٹی یا شخصیت کی حمایت نہیں کرینگے۔ مقامی اخبار کی رپورٹ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ اپنے ضمیر کے مطابق جسے چاہیں ووٹ دیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بچوں کی قربانیوں کی بدولت اللہ پاک انہیں دنیا اور آخرت میں سرخروئی عطا فرمادی ہے۔ ایسے میں کسی سیاسی جماعت سے تعلق ان کیلئے کچھ باعث عزت نہیں۔ شہدائے تحفظ ناموس رسالتؐ غازی ممتاز حسین قادری شہید اور عامر نذیر چیمہ کے اہل خانہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بخشی گئی عزت پر مسرور و مطمئن ہیں۔ وہ کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کے سپورٹر نہیں۔ البتہ غازی ممتاز قادری شہید کے والد ملک محمد بشیر اعوان اور غاذی عامر چیمہ شہید کے والد پروفیسر نذیر چیمہ نے کہا ہے کہ عوام کیلئے ان کا مشورہ ہے کہ اپنے ضمیر کے مطابق جسے چاہیں ووٹ دیں۔ البتہ یہ اہم ترین نکتہ مدنظر ضرور رکھیں کہ جس پارٹی کو اپنا مینڈیٹ سونپ رہے ہیں وہ تحفظ ناموس رسالتؐ اور نظریہ ختم نبوت کے حق میں کتنی مخلص ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹ دیتے وقت ضمیر کی آواز پر لبیک کہنا چاہئے۔ یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ کسی امیدوار کو ووٹ نہ دیں جس کی جیت کے امکانات کم ہیں۔

فتح و شکست کو پس پشت ڈال کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں کہ اسی میں دنیا کی بہتری اور آخرت کی بھلائی مضمر ہے ۔ ممتاز قادری کے والد ملک بشیر اعوان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید احمد نے سوشل میڈیا پر دو تین دن پہلے بیان جاری کیا کہ انہیں ممتاز قادری شہید کے خاندان کی حمایت حاصل ہے۔ جب مجھے علم ہوا تو میں نے اپنے بیٹوں سے اس کی فوری تردید کرنے کا کہا اور انہوں نے

سوشل میڈیا پر اس بات کی تردید کر دی، بعدازاں شیخ رشید احمد نے ہمارے ملنے والے سے شکوہ کیا کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ میرا سوال ہے کہ ہم ایسا کیوں نہ کرتے؟جس شخص نے 6برس کے دوران کبھی عاشق رسول سے جیل میں ملنے کی کوشش نہ کی ہو، جو راولپنڈی میں ہوتے ہوئے بھی شہید کےجنازے میں شریک ہوا اور نہ کبھی اس کی قبر پر فاتحہ پڑھنے آیا ہو، ہم ایسے شخص کے حامی کیسے ہو سکتے ہیں؟



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…