اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان کا ایسا ادارہ جہاں کے ملازمین ہر ماہ ایک نہیں بلکہ کتنی تنخواہیں وصول کرتے ہیں، تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

datetime 26  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقے میں انسانی وسائل کی ترقی کے مالیاتی مشیر نے انکشاف کیا ہے کہ این سی ایچ ڈی میں 302پوسٹیں عرصہ 3سال سے زائد خالی پڑی تھیں جنہیں پر نہ کرنے کی وجہ سے ان پوسٹوں کو ختم کر دیا گیا، ادارے میں غیر قانونی طور پر 62سینئر گریڈکے افراد بھرتی کئے گئے جس کے بعد ادارے کو لاکھوں روپے کا

اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑا، فنانس ڈویژن نے مجوزہ غیر قانونی بھرتیوں کو کینسل کرنے کی ہدایت جاری کر دیں، کمیٹی کو بتایا گیا کہ این سی ایچ ڈی میں سینکڑوں ملازمین ایسے بھی ہیں، جو سرکار سے دو، دو تنخواہیں وصول کررہے ہیں، این سی ایچ ڈی حکام کے عدم تعاون کی وجہ اور رابطے کے فقدان کے سبب مسائل موجود ہیں، فنانس ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارے کی 2641منظور شدہ آسامیوں کا بجٹ منظور ہو چکا ہے جبکہ انسانی وسائل کی ترقی ادارے کے حکام وزارت خزانہ کو 2943ملازمین کیلئے بجٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں جو قانون کے مطابق ہمارے اختیارات میں نہیں۔ چیئرمین این سی ایچ ڈی روزینہ عالم خان نے کمیٹی کو بتایا کہ فنانس ڈویژن عرصہ دراز سے ادارے کو فنڈز دینے میں لیت و لعل سے کام لے رہا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل این سی ایچ ڈی ثمینہ وقار نے بتایا کہ عدالتی امور کی وجہ سے 302پوسٹیں عرصہ دراز سے خالی تھیں، جنہیں فنانس ڈویژن اب ان پوسٹوں کو ختم کرنے کا کہہ رہا ہے۔ چیئرمین کمیٹی عثمان خان کاکڑ نے کمیٹی کی رضا مندی سے سفارش کی کہ این سی ایچ ڈی اور فنانس ڈویژن باہمی اجلاس منعقد کر کے اس مسئلے کو حل کریں اور اس حوالے سے کمیٹی کو 15جولائی تک مسائل حل کرنے کی رپورٹ جمع کرائیں، فنانشل ایڈوائزر محمد بلال نے کمیٹی کو بتایا کہ این سی ایچ ڈی میں کوئی مالیاتی ڈسپلن نہیں ہے، ادارے کے لوگ فنانس ڈویژن

میں بجٹ لینے آتے ہیں تو ان کی گفتگو ناقابل برداشت ہوتی ہے، فنانس ڈویژن قانون کے خلاف ادائیگیاں کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا،ادارے کے حکام جب تک جعلی ڈگری ہولڈرز اور ڈبل تنخواہ لینے والے ملازمین کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کرتے اس وقت تک ملازمین کو بقایا جات دینا ممکن نہیں۔ کمیٹی اجلاس میں جوائنٹ سیکرٹری ایجوکیشن، سینیٹر کلثوم پروین، سینیٹر فدا محمد، سینیٹرحاجی مومن خان، سینیٹر مولوی فیض محمد، سینیٹر نگہت مرزا سمیت ادارے کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…