منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ذوالفقار علی مرزا کے فارم ہاﺅس کا گھیراﺅکیوں کیا ،فائرنگ شروع،شہر بند کرادیاگیا

datetime 5  مئی‬‮  2015 |

پنگریو(نیوزڈیسک) پولیس کی بھاری نفری کی جانب سے ڈاکٹر ذوالفقار علی مرزا کے فارم ہاو س کا گھیراﺅ کر نے کی اطلاع ملتے ہی پنگریو میںمرزا گروپ کے مسلح حامی سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے شدید ہوائی فائرنگ کر کے شہر بند کرادیا شہر میں شدید فائرنگ کے باعث زبردست خوف وحراس پھیل گیا مشتعل کارکنوں نے پنگریو پولیس اسٹیشن کے مین گیٹ کے سامنے پنگریو ٹنڈو باگو روڈ پر ٹائر نذر آتش کر کے روڈ بلاک کر دیا شہر بھر میں فائرنگ کے باعث چند لمحوں میں تمام کاروباری اور تجارتی مارکیٹیں بند ہوگئیں جس کے بعد پنگریو پولیس نے شہر میں گشت کرنا شروع کر دیا جبکہ شہری اتحاد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن بھی اسلحہ، کلہاڑیاں ، ڈنڈے لے کر باہر نکل آئے اور شہر کھلوانے کی کوشش کی پولیس، شہری اتحاد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے تاجروں کو مکمل تحفظ فراہم کر نے کی یقین دہانی کرائی جس پر بعد ازاں شہر کھلنا شروع ہوگیا تاہم بعض دکانیں بدستور بند رہیں اور تاجروں میں کسی متوقع تصادم یا ناخوشگوار واقعہ پیش آنے کے خدشے کے باعث خوف وحراس موجود تھا ادھر شہری اتحاد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے شہر میں فائرنگ کرنے اور خوف وحراس پھیلا کر کاروبار بند کرانے کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اس موقع پر بابر راجپوت، اشرف شورو اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزا گروپ کے کارکنوں نے شہر میں غنڈہ گردی اور دہشت گردی کی ہے جس کے خلاف فوری کاروائی کی جائے انہوں نے کہا کہ مرزا گروپ جان بوجھ کر پنگریو جیسے پر امن شہر کا ماحول کشیدہ کررہا ہے اور تاجروں کو اسلحہ کے زور پر اپنا کاروبار بند کر نے پر مجبور کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ شہری اتحاد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن تاجروں کی ہر طرح سے حفاظت کریں گے اور اب کسی کو بھی زبردستی کاروبار بند کرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی شہری اتحاد کے کارکنوں نے زبردست نعرے بازی بھی کی جبکہ دونوں گروپوں کے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آنے کے خدشے اور مسلح تصادم کے خدشے پر پولیس کی بھاری نفری شہر کے مختلف مقامات پر تعینات کر دی گئی اور گشت میں بھی اضافہ کر دیا گیا خبر لکھے جانے تک شہر کی صورتحال کشیدہ تھی اورتاجروں و شہریوں میں خوف وحراس پایا جاتا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…