جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

اربوں ڈالر بیرون ملک منتقل کرنے کا انکشاف

datetime 24  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں جمع کروائی گئی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق مالی سال 2016-2017 کے دوران ایک بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے اپنے انفرادی بنک اکاوئنٹس کے ذریعے 15 ارب ڈالر سے زائد کی رقم بیرون منتقل کی۔ رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ ایک بڑی رقم ‘ہنڈی’ اور ‘حوالہ’ کے غیر قانونی طریقے سے ملک سے باہر بھیجی گئی ۔

اس رپورٹ کا انکشاف پاکستان کی سپریم کورٹ کے طرف سے بیرون ملک پاکستانی شہریوں کے مبینہ اثاثوں کے معاملے سے متعلق از خود نوٹس کے تحت ہونے والی سماعت کے بعد جاری ہونے والے ایک مختصر حکم نامے میں کیا گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ نوٹس ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان اطلاعات کے بعد لیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ مبینہ طور پر ایک بڑی تعداد میں پاکستانی شہریوں کے بیرون بینک اکاوئنٹس میں اربوں ڈالر کے اثاثے موجود ہیں اور انہیں یہ اثاثے پاکستان میں ظاہر نہیں کیے ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی کے سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بیچ نے بیرون ملک پاکستانیوں کی اثاثوں کی چھان بین کےلیے پاکستان اسٹیٹ بنک کے گورنر طارق باجوہ کے کی سربراہی ماہرین کی ایک 12 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے اپنی ایک رپورٹ میں عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ ایک بڑی تعداد میں پاکستانی شہریوں نے بیرون ملک رقوم متنقل کرنے کے لیے بنکنگ چینلز کے علاوہ بعض غیر قانونی طریقوں کو استعمال کیا گیا۔ رپورٹ میں کے مطابق، ان دونوں طریقوں سے بیرون ملک رقوم کی منتقلی سے ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے پر منفی اثر پڑا جس کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بھی کمی واقع ہوئی۔ حالیہ مہینوں کے دوران پاکستان کی برآمدات میں ہونے والی کمی کی وجہ سے ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

اور گزشتہ حکومت نے رواں سال اپریل میں ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا آرڈیننس جاری کیا تھا۔ اس سکیم کے تحت کہ وہ افراد جو ملک کے اندر اور بیرون ملک غیر قانونی اثاثہ یا سرمایہ رکھتے ہیں وہ رواں سال 30 جون سے پہلے ایک مخصوص شرح ٹیکس ادا کر کے اپنے ان اثاثوں کو ظاہر کر سکتے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کے باوجود بیرون ملک پاکستانیوں کے ایسے اثاثوں کو ملک واپس لانا حکومت کے لیے ایک چیلنج ہوگا۔

جن پر ملک کے اندر ٹیکس ادا نہیں کیا گیا ہے۔ اقتصادی امور کے ماہر اور سابق مشیر خزانہ سلمان شاہ نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے بیرون ملک اثاثوں کی منتقلی سے روکنے لیے کئی قانونی اقدمات کیے ہیں تاہم، ان کے بقول، سب سے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک اثاثوں کی منتقلی کو روکنا ایک چیلنج ہوگا۔ سلمان شاہ نے کہا کہ” بیرون ملک بے شمار پاکستانی ہیں سے بڑی تعداد پاکستان میں رقوم کے منتقلی کے لیے حوالے کا متبادل طریقہ استعمال کرتے ہیں۔

اور اس کو مکمل طور پر روکنا بہت مشکل کام ہے۔ اور اس کے لیے بہت زیادہ نگرانی کی ضرورت ہوگ لیکن میرے خیال میں اس کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے اثاثوں سے متعلق رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب فنانشل ایکشن ٹاسک اپنے آئندہ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ کیا پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں شامل کی جائے گا یا نہیں جنہوں نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کے روک تھام کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے ہیں۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…