بدھ‬‮ ، 13 مئی‬‮‬‮ 2026 

بدین میں حالات کشیدہ ، مرزا فارم ہاﺅس کے تمام دروازوں پر پولیس کا قبضہ

datetime 5  مئی‬‮  2015 |

بدین (نیوزڈیسک)بدین میں موجود مرزا ہاﺅس کے اطراف میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ پولیس نے ذوالفقار مرزا کے فارم ہا ﺅس کی طرف جانے والے راستوں کو بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے بند کرکے مرزا فارم ہاﺅس کے تمام دروزاوں پر قبضہ کرلیا ہے اور مزید نفری کو طلب کیا گیا ہے۔جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے باغی رہنما ذوالفقار مرزا نے کہا ہے کہ پولیس نے عدالت تک پہنچنے سے روکنے کے لیے ناکہ بندی کی ہوئی ہے۔پولیس مجھے بھی مرتضی ٰ بھٹو کی طرح پر سڑک پر مارنا چاہتی ہے۔میں عدالت سے ضمانت پر ہوں اور عدالت تک رسائی میرا حق ہے۔تفصیلات کے مطابق منگل کی صبح سے ہی بدین کے تین تھانوں کی پولیس اور 15بکتر بند گاڑیوں اور 20سے زائد پولیس موبائلوں کے ذریعہ مرزا فارم ہاو ¿س کی طرف جانے والے راستے سیل کردیئے گئے ہیں۔پولیس کے مطابق مرزا فارم ہاو ¿س میں مختلف مقدمات میں مطلوب ملزمان موجود ہیں جن کی گرفتاری کے لیے آپریشن کی تیاری کی جارہی ہے۔دوسری جانب پولیس کے اس عمل پرڈاکٹر ذوالفقار مرزا مرزا فارم ہاﺅس ہاﺅس کے گیٹ پر کرسی رکھ کر بیٹھ گئے ہیں ان کے ہاتھ میں رائفل بھی موجود ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ذرائع کے مطابق ذوالفقار مرزا کے حامی روتے ہوئے نے ان کوواپس فارم ہاﺅس جانے کا کہہ رہے ہیں لیکن ذوالفقار مرزا نے فار م ہاﺅس میں جانے سے انکار کردیا ہے۔ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کراچی رزا ق آباد سے اسپیشل پولیس فورس کی 12سے 15گاڑیاں مرزا فارم بدین میں آپریشن کے لیے روانہ کی گئی ہیں۔ادھر بدین پریس کلب میں بذریعہ ٹیلی فون بات چیت کرتے ہوئے ذوالفقار مرزا نے کہا کہ مرزا فارم ہاﺅس پر 300سے زائد آصف علی زرداری اور بدین میں موجود ان کے کمداروں نے حملہ کردیا ہے۔فائرنگ کا تبادلہ ہورہا ہے اور مجھے قتل کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کراچی سے بدین آنے والے راستے کو سیل کردیا گیا ہے۔پولیس پرائیویٹ سے لوگوں سے مل کر آپریشن کررہی ہے۔زرداری اور بدین کے تاجر تاج محمد ملاح کے 300سے زائد دہشت گرد اس وقت پولیس کے ساتھ مل کر میرے فارم ہاﺅس کے اردگرد پہنچ چکے ہیں اور فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوچکا ہے۔اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار آصف علی زرداری اور بدین میں موجود ان کے کمدار ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ میں سڑکوں پر بھاگنے کی بجائے مرنے کو ترجیح دوں گا۔انہوں نے کہا کہ میری 6مئی تک سندھ ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت منظور کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود ضمانت کی تاریخ ختم ہونے سے قبل مجھے گرفتار کیا گیا تو یہ عمل توہین عدالت کے زمرے میں آئے گا جس کے ذمہ دار ڈی آئی جی حیدرآباد ،ایس ایس پی بدین ،ایس پی ٹنڈو محمد خان ،ایس ایس پی سجاول اور آئی جی سندھ ہوں گے۔انہوںنے کہا کہ آج میری شہادت کا دن ہے پہلے مجھے گولی مارو اور پھر میرے ساتھیوں کو مارو۔اس صورت حال کے باعث پولیس بھی شش و پنج کا شکار ہوگئی ہے کہ آپریشن آگے بڑھایا جائے یا نہیں۔پولیس کے مطابق ذوالفقار مرز ا کے خلاف مختلف تھانوں میں 11مقدمات قائم کیے جاچکے ہیں اور ذوالفقار مرزا اس وقت آج (بدھ)تک حفاظتی ضمانت پر ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



موسمی پرندے


’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…