اسلام آباد(نیوزڈیسک)مسلم لیگ (ن) کی لیگل ٹیم کے سربراہ شاہد حامد نے جوڈیشل کمیشن سے استدعا کی ہے کہ حلقے کھولنے ہیں تو پورے ملک سے کھولے جائیں،کون سے حلقے کھولیں جائیں ، فیصلہ اعتزاز احسن نہیں خود جوڈیشل کمیشن کرے۔ منگل کو یہاں چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس سپریم کورٹ میں ہوا۔حکمران جماعت مسلم لیگ (ن )کی لیگل ٹیم کے سربراہ شاہد حامد نے تحریک انصاف کی پیش کردہ دستاویزات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصدیق شدہ نہیں جوڈیشل کمیشن کے رکن جسٹس اعجاز افضل کے استفسار پر تحریک انصاف کی لیگل ٹیم کے سربراہ نے کہاکہ اکثر دستاویزات تصدیق شدہ ہیں۔ شاہد حامد نے کہا کہ پیش کی جانے والی دستاویزات وہی ہیں جوتحریک انصاف نے 73حلقوں کے نتائج چیلنج کرتے ہوئے الیکشن ٹربیونل میں جمع کرائیں اورمقدمات ہارگئے۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ یہ انکوائری کمیشن ہے، یہاں قانون شہادت کا اطلاق نہیں ہوتا۔چیف جسٹس ناصر الملک نے کہاکہ ہرکسی کو شہادت پر سوال کرنے کا حق حاصل ہے،الیکشن کمیشن اور شاہد حامد دستاویزات پر تحریری اعتراضات جمع کرائیں۔ جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ان اعتراضات کی روشنی میں جانچ ہوگی کہ دستاویزات قابل قبول ہیں یا نہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنما اسحاق خان خاکوانی بطور گواہ پیش ہوئے توان کے بیان حلفی پرشاہد حامد نے پانچ اعتراضات کیے۔ چیف سیکرٹری پنجاب جاویداقبال، راﺅ افتخار اور صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب (آج) بدھ کو پیش ہوں گے۔جوڈیشل کمیشن نے کہاکہ تمام اعتراضات نوٹ کرلیے ہیں،ہر سیاسی جماعت کو گواہوں سے سوال کا حق حاصل ہوگا کیونکہ گواہ کو دوبارہ نہیں بلایا جائےگا۔چیف جسٹس نے کہاکہ بیانات ریکارڈ اور گواہان پر جرح کرنے میں وقت لگ رہا ہے، بدھ کو صرف 3 گواہان کے بیان قلمبند ہوں گے، ان میں پنجاب کے سابق چیف سیکریٹری، ایڈیشنل سیکریٹری اور صوبائی الیکشن کمشنر شامل ہیں، تحریک انصاف کے وکیل حفیظ پیرزادہ ان پر جرح کریں گے۔پی ٹی آئی نے 74 حلقوں میں مبینہ دھاندلی کا ریکارڈ جمع کروایا تو مسلم لیگ (ن) اور الیکشن کمیشن کے وکلاءنے اعتراضات کا ڈھیر لگادیا، اس پر انہیں تحریری اعتراضات جمع کرانے کا حکم دیا گیاچیف جسٹس نے کہاکہ جب تک جمع کرائی گئیں دستاویزات کی جانچ پڑتال نہ کرلیں وہ صرف مواد ہے، ضروری نہیں کمیشن سارا مواد دیکھے، دستاویزات متعلقہ ہیں یا نہیں فیصلہ بعد میں کریں گے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنماوں انوشہ رحمان اور بیرسٹر ظفراللہ خان نے کہاکہ تحریک انصاف کے پیش کردہ ثبوتوں کو بطورشہادت تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔
جوڈیشل کمیشن کی الیکشن کمیشن اورتحریک انصاف کودستاویزات پرتحریری اعتراضات جمع کرانے کی ہدایت
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ووزی ناں (Vozinha)
-
عامر خان کی اہلیہ گوری سپراٹ کتنے اثاثوں کی مالک ہیں؟
-
سونے کی قیمت میں آج بھی بڑی کمی
-
دورانِ سروس وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کے لیے بڑا فیصلہ
-
غیر ملکی خواتین سے اجتماعی زیادتی، 3 ملزمان کا ڈی این اے میچ کر گیا
-
23 سال سے مجھے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کرسٹیانو رونالڈو
-
سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑی کمی، بیٹریاں اور انورٹرز بھی سستے ہوگئے
-
تیل کی قیمت میں 26 سالوں میں سب سے بڑی کمی
-
سعودی عرب جانے والے افراد کیلئے خوشخبری
-
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں
-
راولپنڈی کے 150 سال پرانے کیس میں 3 گرفتاریاں، ملزمان کا 4 روزہ ریمانڈ حاصل
-
بچوں کے لیے نادرا جووینائل کارڈ بنوانے کا آسان طریقہ کار جانیے
-
تمھارے لیے کماتا ہوں، میری خواہش پوری کرو؛ بہو نے ناجائز مطالبے پر سسر کوہلاک کردیا
-
صحت کارڈ سے کینسر اور کارڈیک سرجری کا علاج ختم



















































