منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

نقیب اللہ محسود قتل کیس:میں اس مقدمے سے بری ہو جائوں گا کیونکہ۔۔ رائو انوار نے دھماکہ خیز اعلان کر دیا، ایسا دعویٰ کہ سب ششدر رہ گئے

datetime 14  جون‬‮  2018 |

کراچی(آ ئی این پی)نقیب اللہ قتل کیس میں ملوث سابق پولیس افسر را ئوانوار نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے ذاتی دھڑے بندی کے باعث مجھ پر قتل کا مقدمہ درج کیا۔ نجی ٹی وی کے مطا بق جمعرات کو کراچی میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں سابق ایس ایس پی ملیر را ئوانوار پھٹ پڑے اور پیٹی بھائیوں پر خود کو پھنسانے کا الزام عائد کیا، سابق ایس ایس پی ملیر

اور قتل میں نامزد ملزم را انوار سمیت 10 ملزمان کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ نقیب اللہ کے والد کے وکیل ایڈووکیٹ صلاح الدین پنہور کی غیر حاضری کی وجہ سے سماعت 4 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔سماعت کے بعد احاطہ عدالت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے را انوار نے کہا کہ پولیس نے ذاتی گروپنگ اور اختلافات کی وجہ سے مجھ پر قتل کا مقدمہ درج کیا، میرے خلاف نقیب اللہ قتل کیس میں شواہد موجود نہیں ہیں، پیشہ ورانہ رقابت کی وجہ سے میرے خلاف کارروائی کرائی گئی۔را ئوانوار کا کہنا تھا کہ میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں، جے آئی ٹی میں میرا فون نمبر بھی غلط ڈالا گیا، ایسا فون نمبر ڈالا گیا ہے جو میرے استعمال میں ہی نہیں، 21 مارچ کو میں سپریم کورٹ میں تھا، جبکہجے آئی ٹی میں جو فون نمبر ڈالا گیا اس کی لوکیشن کراچی تھی، مجھ پر دو خود کش حملے ہو چکے ہیں میرے گھر کو سب جیل قرار دینا بے جا عنایت نہیں ہے کیونکہ مجھ پر دو خود کش حملے ہو چکے ہیں۔ر ائو انوار نے مزید کہا کہ ایک شخص نے میرے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی جسے بعد میں گرفتار کیا گیا، میرے سر کی قیمت مقرر کرنے والے شخص کو چیف جسٹس نے گرفتار کرایا، مجھے ہر تنظیم کے دہشتگرد نے دھمکی دی ہے، مجھے را اور دیگر کالعدم تنظیموں سے بھی خطرہ ہے، مجے تھریٹ لیٹر وفاق، صوبائی حکومت اور آئی جی سندھ سے بھی موصول ہوئے، مجھے غلط مقدمے میں نامزد کیا گیا، نہ میں نے نقیب اللہ کو پکڑوایا، نہ مارا، ریکارڈ موجود ہے، میں اس مقدمے میں بری ہوجاں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…