بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ ڈیلٹا کی زمین تیزی سے سمندر برد ہو رہی ہے، 2050 تک سمندر کون سے اہم شہر تک آ جائے گا، حیران کن انکشاف

datetime 6  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی) پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق مرکزی سیکریٹری اطلاعات سابق سینیٹر تاج حیدر نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کالا باغ ڈیم کے متعلق سماعت کر رہے ہیں، ان کی نظر میں سب سے مقدم مسئلہ یہ ہونا چاہیے کہ کوٹلی سے نیچے پانی کے کم اخراج کی وجہ سے ٹھٹہ اور بدین کا 24 لاکھ ایکڑ رقبہ سمندر برد ہو جائے گا۔ ایک بیان میں سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ خاص مقدار میں دریا کا پانی سمندر میں جانا چاہیے تاکہ زمین کو سمندری پانی سے بچایا جا سکے۔ 1991کے پانی کے معاہدے میں

یہ بات تسلیم کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ منگلا اور تربیلا ڈیموں سے دو بڑی نہریں نکالی گئی ہیں جن میں دریائے سندھ کا پانی جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ڈیلٹا کی زمین تیزی سے سمندر برد ہو رہی ہے ۔ اس سے 2050تک سمندر ٹھٹھہ شہر تک آجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیم کے لئے پانی ضروری ہے لیکن پانی میسر ہی نہیں تاہم اے این جی عباسی کی رپورٹ کے صفحہ 48 میں جو چارٹ دکھایا گیا ہے وہ آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن پانچ ماہرین نے اضافی پانی دکھایا ہے انہوں نے حال اور مستقبل میں پانی کے استعمال کو مدنظر نہیں رکھا۔ تاج حیدر نے کہا کہ بھارت نے کشن گنگا ڈیم بنا لیا ہے جس کے بعد پانی اور بھی کم ہو گیا ہے۔ کالا باغ ڈیم کی حمایت کر رہے ہیں وہ دراصل بھارت کی جانب سے کشن گنگا ڈیم بنانے کا جواز مہیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں زیریں علاقے کے لوگوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ا نہوں نے کہا کہ سندھ پہلے ہی اس بات پر تیار ہو گیا ہے کہ تربیلا سے اوپر پانی کے ذخائر کے لئے ڈیم بنائے جائیں تاہم پانی اتنا کم ہے کہ بھاشا ڈیم میں بھی دس سالوں میں صرف دوسال پانی میسر ہو سکے گا۔ انہوں نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ وہ ٹھٹھہ اور بدین اضلاع کا دورہ کریں اور خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ کس طرح سمندر نے ٹھٹھہ اور بدین کی زمینوں کو کاٹ ڈالا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…