جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

’’جو سیاستدان ہمت دکھاتا ہے وہ مر بھی جائے تو تاریخ میںزندہ رہتا ہے‘‘

datetime 10  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی)پیپلز پارٹی کے سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ جس ملک کا وزیر اعظم اداروں کے سربراہوں سے مطالبات کرے اس کیا حیثیت ہو گی ، وزیر اعظم اور سابق وزیر اعظم دونوں نے اپنے اداروں کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے جس کا ملک کو نقصان ہو رہا ہے،شہباز شریف کہتے ہیں خلائی مخلوق نہیں ہے نواز شریف کہتے ہیں کہ خلائی مخلوق موجود ہے  ۔

شریف برادران پہلے خلائی مخلوق کا فیصلہ کر لیں کہ کون درست ہے، نواز شریف کو جب تک ادارے ہاتھ نہیں لگا رہے تھے تب تک ٹھیک تھے،جو سیاستدان ہمت دکھاتا ہے تاریخ میں اس کا نام زندہ رہتا ہے۔ وہ جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک کا وزیر اعظم اتنا بے بس ہو کہ اداروں کے سربراہوں سے مطالبات کرے اس کی پھر کیا حیثیت ہو گی۔ نواز شریف کو جبتک ادارے ہاتھ نہیں لگا رہے تھے تب تک ادارے اچھے تھے، آج ان کی احتساب کی باری آئی تو ادارے غلط ہوگئے۔جب نیب میں سیاستدانوں کے خلاف کاروائی کر رہی تھی تو ٹھیک تھا۔ نواز شریف پہلے سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے تھے لیکن اب ان کے خلاف تحقیقات شروع ہوئیں تو سپریم کورٹ کو گالیاں نکال رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ ادارے غیر جانبدار رہ کر کاروائیاں کریں۔ہمارے وزیر اعظم اور سابق وزیر اعظم دونوں نے اپنے اداروں کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے جس کا ملک کو نقصان ہو رہا ہے۔ ایسے بزدل حکمران نہیں چل سکتے۔ نواز شریف 3بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں، وہ ہمت کریں اور خلائی مخلوق کا نام بتائیں ۔جو سیاستدان ہمت دکھاتا ہے وہ مر بھی جائے تو تاریخ میں اس کا نام ذندہ رہتا ہے ۔ شہباز شریف کہتے ہیں خلائی مخلوق نہیں ہے جبکہ نواز شریف کہتے ہیں کہ خلائی مخلوق موجود ہے، شریف برادران پہلے خلائی مخلوق کا فیصلہ کر لیں کہ کون درست ہے۔ وزیر اعظم اپنے آپ کو وزیر اعظم مانتے نہ اپنے اداروں کو مانتے ہیں تو وہ اس ملک کیلئے کیا مثبت کردار اداکریں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…