بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سوشل میڈیا پر پولیو ویکسین کیخلاف منفی پروپیگنڈے کا توڑ نکال لیا گیا،کیسے نمٹا جائیگا؟

datetime 6  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) انسدادِ پولیو ٹیم نے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پولیو ویکسین کے خلاف مذموم مہم روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو کے سربراہ ڈاکٹر رانا صفدر نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ ہر پولیو مہم سے قبل ویکسین کے خلاف مربوط منفی مہم شروع ہوجاتی ہے، دوسری جانب مختلف امراض مثلا نظامِ تنفس میں انفیکشن اور اسہال کے باعث

سب سے زیادہ بچے اپنی زندگی کی بازی ہار رہے ہیں، خسرہ کی وبا ابھی باقی ہے لیکن شیطانی دماغ والے مذکورہ اموات کو ویکسین سے جوڑ رہے ہیں جس کے باعث والدین خوفزدہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیاپر متعدد ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں والدین کو پولیو ویکسین پلانے سے روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ڈاکٹر صفدر کا کہنا تھا کہ واٹس اپ کی وجہ سے حالات مزید بدتر ہو گئے ہیں کیونکہ اس میں پہلی مرتبہ ویڈیو پوسٹ کرنے والے کا پتہ نہیں چلتا۔اس حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ ویکسینیٹرز کو ہدایت کی گئی ہیں کہ وہ 7 مئی کو شروع ہونے والی پولیو مہم کے پہلے دن زیادہ زیادہ بچوں کو ویکیسن پلائیں تاکہ اگلے دنوں میں ویکیسن کے انکاری کے کیسز کم ہو سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے سے درخواست کی گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر پولیو ویکسین کے خلاف منفی پروپیگنڈا روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔واضح رہے کہ ٹرانسمیشن سیزن میں آخری پولیومہم 18-2017 کا آغاز 7 مئی سے ہوگا جس میں 109 اضلاع، ایجنسیاں اور ٹاؤن شامل ہیں۔پولیومہم کا آغاز پاکستان اور افغانستان میں ایک ساتھ شروع ہوگا تاکہ کوئی بچہ پولیو ویکیسن سے محروم نہ رہے۔ڈاکٹر صفدر نے بتایا کہ جب پاکستان میں ویکسین کا سلسلہ شروع کیا تو بعض بچے افغانستان میں تھے اور جب افغانستان میں انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوا تو تب متعدد بچے پاکستان میں تھے، جس کے باعث ہزاروں بچے پولیو ویکسین سے محررم رہ گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…