منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

گزشتہ 27برس کے دوران 4 کھرب سے زائد کے قرضے معاف ،سب سے زیادہ قرض ایک کھرب 54 ارب روپے کس نے معاف کروایا؟نام سامنے آگیا،اہم سیاسی شخصیات بھی شامل،سنسنی خیزانکشافات

datetime 4  مئی‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبے پاکستان میں قرض معاف کرانے والوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے،جس کے مطابق گزشتہ 27 برسوں میں4 کھرب روپے سے زائد کے قرضے معاف کروائے گئے ہیں۔27برسوں کے دوران 988 سے زائد کمپنیوں اور شخصیات نے 4کھرب 30 ارب 6کروڑ روپے سے زائد کے قرضے معاف کرائے ہیں۔

ایک ارب روپے سے زائد قرض معاف کرانے والی کمپنیوں اور شخصیات کی تعداد 19 ہے۔پاکستان اس وقت مجموعی طور پر 28 ہزار ارب روپے سے زائد بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔حکومت کی جانب سے ایوان بالا میں پیش کی گئی فہرست کے مطابق 1990سے 2015 تک قرضے معاف کروائے گئے ہیں۔ قرض معافی کے معاملے میں عبداللہ پیپرز پرائیویٹ لمیٹڈ نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جس نے 2015 میں ایک کھرب 54 ارب 84 کروڑ 73 لاکھ روپے کے قرضے معاف کرائے ہیں۔مہران بینک اسکینڈل کے مرکزی کردار یونس حبیب نے 1997میں دو ارب 47 کروڑ روپے معاف کرائے ہیں۔ ریڈ کو ٹیکسٹائل کے مالک اور سابق چیئرمین احتساب بیورو سیف الرحمان خان نے 2006 میں ایک ارب 16 کروڑ 67 لاکھ روپے معاف کرائے۔فوجی سیمنٹ نے 2004 میں پانچ کروڑ روپے سے زائد کا قرضہ معاف کرایا جب کہ سپیریئر ٹیکسٹائل ملز پرائیویٹ لمیٹڈ نے 24 کروڑ 75 لاکھ روپے کے قرضے معاف کرائے۔حکومتی رپورٹ کے مطابق سابق رکن قومی اسمبلی سردار جعفر خان لغاری کی چوٹی ٹیکسٹائل ملز نے 2008 میں 30 کروڑ روپے کے قرضے جبکہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کی مرزا شوگر ملز نے 2007 میں 7کروڑ روپے کا قرضہ معاف کروایا۔2002میں صادق ٹیکسٹائل ملز نے 5کروڑ روپے سے زائد کا قرضہ معاف کروایا تھا جن کے مالکان میں تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شیریں مزاری بھی شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…