جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

2 مئی کو پشاور جیل توڑ کر شکیل آفریدی کو رہا کرنے کیلئے امریکی سی آئی اے نے آپریشن کرنا تھا ،شکیل آفریدی کو پشاور سے اڈیالہ جیل اور اس کے بعد اب کہاں منتقل کردیاگیا؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 4  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے شکیل آفریدی کو پشاور سے راولپنڈی منتقل کرنے کے معاملے پر وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزارت خارجہ کے حکام کو پیر کو سینیٹ میں طلب کر لیا۔ جمعہ کو سینیٹ اجلاس میں عوامی اہمیت کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے سابق چیئرمین سینیٹ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ گذشتہ روز اخبار میں اطلاعات آئیں کہ شکیل آفریدی کو

پشاور سے اڈیالہ جیل اور اس کے بعد اب نامعلوم مقام پر شفٹ کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا میں اس حوالے سے کہا گیا کہ 2 مئی کو پشاور جیل توڑ کر شکیل آفریدی کو رہا کرنے کے لئے سی آئی اے نے آپریشن کرنا تھا اس کے بعد دفتر خارجہ کی طرف سے بیان آیا کہ شکیل آفریدی کو رہا کرنے کے لئے جیل توڑنے کے منصوبے کے حوالے سے وزارت داخلہ اس مسئلے کو دیکھ رہی ہے۔ اس لئے وزارت داخلہ اور خارجہ کے حکام کو اس مسئلے پر سینیٹ کو اعتماد میں لینا چاہئے کہ ایسا مسئلہ کیا ہے۔ رضا ربانی نے کہا کہ یہاں پر وزیر رانا افضل نے کہا کہ پانی کے مسئلے پر کھلے ذہن کے ساتھ سینیٹ کے بنائے ہوئے کاکس میں آنے کو تیار ہیں اور کالاباغ ڈیم پر بھی بات کریں گے تو ان کو میں بتاتا چلوں کہ کالاباغ ڈیم پر تین صوبوں کی قراردادیں ہیں پہلے ان کو واپس لیں اس کے بعد کالاباغ ڈیم پر بات کریں۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے شکیل آفریدی کی راولپنڈی منتقلی اور مبینہ جیل توڑ کر ان کو رہا کرنے کے منصوبے کے حوالے سے ایوان کو آگاہ کرنے کے لئے وزارت خارجہ کے حکام اور وزارت داخلہ کے وزیر احسن اقبال کو پیر کو طلب کر لیا۔  چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے شکیل آفریدی کو پشاور سے راولپنڈی منتقل کرنے کے معاملے پر وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزارت خارجہ کے حکام کو پیر کو سینیٹ میں طلب کر لیا۔ جمعہ کو سینیٹ اجلاس میں عوامی اہمیت کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے سابق چیئرمین سینیٹ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ گذشتہ روز اخبار میں اطلاعات آئیں کہ شکیل آفریدی کو پشاور سے اڈیالہ جیل اور اس کے بعد اب نامعلوم مقام پر شفٹ کر دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…