منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

لندن فلیٹس،احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو بڑی خوشخبری مل گئی

datetime 3  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)لندن فلیٹس،احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو بڑی خوشخبری مل گئی، احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور ممبر قومی اسمبلی کیپٹن (ر) محمد صفدر کیخلاف دائر نیب ریفرنس کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے عدالت کو بتایا ہے کہ میں نے ایسی کوئی دستاویز حاصل نہیں کی جو ظاہر کرے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف لندن فلیٹ کے مالک ہیں،

میں نے بی وی آئی اور ایف آئی اے سے ایسی کوئی دستاویز حاصل نہیں کی جس سے ظاہر ہو محمد نواز شریف بینی فشل اونر یا اصل مالک ہیں۔ جمعرات کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت کی۔ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ،مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔ محمد نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے نیب کے گواہ و تفتیشی آفسیر عمران ڈوگر کے بیان پر جرح کی۔تفتیشی آفیسر نے دوران جرح بتایا کہ نیلسن، نیسکول اور کومبر کی متفرق درخواست میں لگی ہوئی ٹرسٹ ڈیڈ اور جے آئی ٹی کے والیم میں لگی ہوئی ٹرسٹ ڈیڈ کا متن ایک جیسا ہے۔ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ڈیڑھ گھنٹہ لگا کر یہ منوانے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ متن ایک جیسا ہے۔ عمران ڈوگر نے بتایا کہ میں نے ایسی کوئی دستاویز حاصل نہیں کی جو ظاہر کرے کہ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف لندن فلیٹ کے مالک ہیں، میں نے بی وی آئی اور ایف آئی اے سے ایسی کوئی دستاویز حاصل نہیں کی جس سے ظاہر ہو کہ محمد نواز شریف بینی فشل اونر یا اصل مالک ہیں، ایسی کوئی دستاویز حاصل نہیں کی جس میں نواز شریف کو نیلسن اور نیسکول کا ڈائریکٹر، شیئرز ہولڈر کہا گیا ہو۔ تفتیشی آفسیر عمران ڈوگر نے بتا یا کہ کسی گواہ نے نہیں کہا کہ محمد نواز شریف کے قبضے میں ان دو کمپنیوں کے بئیررز شیئرز رہے ہیں، ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی جو ظاہر کرے

کہ محمد نواز شریف نے نیلسن، نیسکول یا لندن فلیٹ کی کوئی خط و کتابت کی ہو۔ عمران ڈوگر نے بتایا کہ ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی جو ظاہر کرے کہ محمد نواز شریف نے کبھی کرایہ، یوٹیلیٹی بلز یا لندن فلیٹ کا کسی قسم کا ٹیکس ادا کیا ہو،کوئی ایسی دستاویز نہیں ملی کہ جو ظاہر کرے کہ نیلسن اور نیسکول کے شیئرز کبھی محمد نواز شریف کے قبضے میں رہے ہیں۔ خواجہ حارث نے نیب کے تفتیشی آفیسر سے سوال کیا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ جے آئی ٹی نے دوران تفتیش گواہوں کے بیانات قلمبند کئے تھے۔

گواہ عمران ڈوگر نے کہا کہ میں ریکارڈ دیکھ کر بتا سکتا ہوں۔ تفتیش آفسیر کے مطابق جے آئی ٹی نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف سمیت 18 گواہوں کے بیانات قلمبند کئے، جے آئی ٹی کے 13 گواہان میں سے کسی کو بھی اس عدالت میں دائر کیے گئے ریفرنس میں شامل نہیں کیا گیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت (آج ) جمعہ تک ملتوی کر دی۔ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث گواہ عمران ڈوگر کے بیان پر جرح جاری رکھیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…