جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد سے اغوا ہونے والی طالبات دو سال بعد بھی بازیاب نہ ہو سکیں،نوٹوں کی چمک دیکھ کر پولیس نے ملزم کی مرضی کی ضمنی تحریر کی، عدالت نے اہم حکم جاری کر دیا

datetime 2  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن)وفاقی دارالحکومت سے دو سال پہلے اغواء ہونے والی طالبات بازیاب نہ ہو سکی، عدالت عالیہ اسلام آباد کی آخری وارننگ کے بعد انسپکٹر جنرل پولیس اپنی ٹیم کے ہمراہ آج پیش ہو گے، گزشتہ سماعت پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ یہ میری بیٹیاں ہے اگر 2مئی تک پیش نہ کی گئی تو انسپکٹر جنرل پولیس کو ٹیم کے ہمراہ جیل بھیجوائے گے، تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے رورل زون کے تھانہ کھنہ کے علاقے ضیا مسجد سے

اغواء ہونے والی پانچویں اور ساتویں جماعت کی طالبات کے اغواء کا م قدمہ دراج کیا گیا تھا، ایف آئی آر نمبر402جو کہ کئی دنوں کے بعد دراج کی گئی ایف آئی اے کے اندراج کے بعد پولیس نے2016ء سے لے کر ابھی تک مقدمے کو کماؤ پوت بنائے رکھا، درجنوں افراد کو گرفتار کر کے لاکھوں روپے کمائے گئے، جبکہ نامزد ملزم ریاض عرف صدف اور اس کی سرپرستی کرنے والے سیاسی شخصیات نے بھی لاکھوں کے نظرا نے پولیس کے افسران کو پیش کئے، جس کے بعد نوٹوں کی چمک دیکھ کر پولیس نے روایتی انداز میں حقائق پر پردہ ڈالتے ہوئے ملزم کی مرضی کی ضمنی تحریر کی، بعدزاں بچیوں کے اغواء کا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا لیکن متاثرہ خاندان کی کوئی شنوائی نہ ہوئی، فاضل جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس افسران کی کئی بار سرزش کی لیکن پولیس افسران کے قانون پر جوں تک نہیں رینگی، ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ نامزد ملزم نے پہلے چھتر پر کہا کہ میں لڑکیوں کو سامان کے ساتھ افغانستان چھوڑ آیا ہوں، 2016ء سے ابھی تک پولیس طالبات کو بازیاب نہ کرواسکی، مدعی مقدمہ کا اس حوالے سے الزامات عائد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پولیس میرے بچوں کا سودا کر چکی سبب کچھ عدالت میں بتاؤں گا پیسوں کی آفر بھی کی گئی میں خود90ہزار ملازمین کو دیتا ہوں میری بچیاں تین گھنٹے میں مل سکتی ہے اگر تفتیش افسر ایس ایچ اور اور ڈی ایس پی کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں جیل بھیجا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…