جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

چین کا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ 21 ویں صدی کا عظیم ترین اقتصادی منصوبہ ہے،100 ممالک کی شرکت کے بعد یہ عالمی منصوبہ بن چکا ہے، پاکستان کی ترقی میں کیا کردار ادا کرے گا؟

datetime 30  اپریل‬‮  2018 |

نیویارک (این این آئی) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹرملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ چین کا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ 21 ویں صدی کا عظیم ترین اقتصادی منصوبہ ہے جو علاقائی روابط کی بنیاد پر تمام ممالک میں معاشی خوشحالی لائے گا،تقریبا100 ممالک کی شرکت کے بعد یہ عالمی منصوبہ بن چکا،منصوبے کے تحت تین ہزار کلو میٹر سڑکوں ، ریلوے لائنز، پائپ لائنزاور دیگر انفراسٹرکچر سے چین کے صوبہ سنکیانگ کے شہر کاشغر کو پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے ملایا جائے گا۔

چینی میڈیا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان میں چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو اکیسویں صدی کا اہم ترین منصوبہ تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ46 ارب ڈالر کے اس منصوبے کے تحت تین ہزار کلو میٹر سڑکوں ، ریلوے لائنز، پائپ لائنزاور دیگر انفراسٹرکچر سے چین کے صوبہ سنکیانگ کے شہر کاشغر کو پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے ملایا جائے گا۔ان منصوبے سے چین، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا میں اربوں لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔سی پیک تین مرحلوں میں 2030 ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔مشرق و مغرب کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان کو اپنے محل وقوع کی وجہ سے چین کیساتھ مل کر علاقائی روابط کے فروغ میں بے حد اہمیت حاصل ہو جائیگی۔انہوں نے کہا کہ علاقائی روابط سے مراد صرف ممالک کے درمیان باہم روابط نہیں بلکہ ان ممالک کے عوام اور ان کے دلوں کے درمیان روابط بھی ہیں۔ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا عوام سے عوام کے روابط کا پہلو جو سب کی جیت کا فارمولا ہے اس کا مقصد صرف پاکستان اور چین کے عوام نہیں بلکہ تمام لوگوں کی فلاح و بہبود ہے۔تقریباً ایک سو ممالک کی شرکت کے ساتھ اب یہ عالمی منصوبہ بن چکا ہے اور پاکستان کو اس منصوبے میں چین کا بنیادی شراکت دار ہونے پر بے حد خوشی ہے۔یہ منصوبہ پائیدار ترقی کے اہدار 2030 ء کے حصول میں

بھی اہم کردار ادا کرے گا۔اقوام متحدہ کے فورم پر ایک عالمی طاقت کی حیثیت سے چین کا ایک مستقل کردار ہے۔یہ عالمی ادارے کے فورم پر بین الاقوامی سلامتی، امن ، ترقی انسانی حقوق اور دیگر شعبوں میں ہونے والی سفارتکاری میں سرگرمی سے حصہ لیتا ہے۔چین اس حوالہ سے ہر ایک معاملے پر اپنے واضح موقف کا اظہار کرتا ہے اور چونکہ وہ خود ایک ترقی پذیر ملک ہے اس لئے وہ ہمیشہ ترقی پذیر ممالک کی حمایت کرتا ہے عالمی اقتصادی مرکز ہونے کے باوجود چین نے اپنے مفادات کو ہمیشہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے مفادات سے ہم آہنگ رکھا ہے۔ علاوہ ازیں چین ترقی پذیر ممالک کے سب سے بڑے گروپ جی ۔ 77کے فورم پر بھی خاصا سرگرم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…