پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

ایوانوں کے دروازے کرپٹ اور قومی خزانہ لوٹنے والوں کے بجائے غریب کے لیے بھی کھلیں گے،ہم نے غریب کے لیے سیاست کا موٹروے کھولناہے،متحدہ مجلس عمل نے منافقانہ سیاست کے خاتمے کا اعلان کر دیا

datetime 29  اپریل‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ متحدہ مجلس عمل 13 مئی کو مینار پاکستان پر ایک بڑے جلسہ عام میں موجودہ سرمایہ دارانہ ، جاگیردارانہ نظام اور منافقانہ سیاست کے خاتمے کے لیے متبادل نظام دے گی جس کے نتیجہ میں ایوانوں کے دروازے کرپٹ اور قومی خزانہ لوٹنے والوں کے بجائے غریب کے لیے بھی کھلیں گے ۔ موجودہ سٹیس کو کی سیاست نے عوام کو عزت کی زندگی سے محروم کیاہے۔ اس نظام میں غریب کا کام ان بڑوں کو کاندھوں پر بٹھا کر

اقتدار کے ایوانوں میں پہنچانا اور پھر ان کی عیاشیوں کے لیے بڑے بڑے بل اور ٹیکس ادا کرناہے ۔ ستر سال سے یہی تماشا لگا ہوا ہے ۔ہم نے غریب کے لیے سیاست کا موٹروے کھولناہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں جماعت اسلامی پنجاب کے زیراہتمام پنجاب بھر سے آئے ہوئے ضلعی امرا اور ضلعی شوراؤں کے کنونشن سے خطاب کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی اظہر اقبال حسن ، امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد ، سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف اور امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد بھی موجود تھے۔سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ 2018 کا الیکشن قریب ہے اور سیاسی مسافروں نے پارٹیاں تبدیل کرنا شروع کردی ہیں ۔ یہ ایسے خوش قسمت یتیم ہیں جن کی کفالت کرنے کے لیے ہر پارٹی تیار ہوتی ہے ۔ انہی لوگوں نے ہماری سیاست کو بدنام کیاہے ۔ سیاسی پارٹیوں کو کرپٹ عناصر کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے ۔ انہوں نے جس پارٹی کو چھوڑا ہے اس میں کیا کردار ادا کیا تھا جو دوسری پارٹی میں شامل ہو کر مثبت کردار ادا کریں گے ؟ ۔ سیاسی جماعتوں کو کرپٹ عناصر کی حوصلہ افزائی کی بجائے ان کا الٹرا ساؤنڈ کرناچاہیے ۔ حرام کی دولت سے الیکشن لڑ کر اقتدار میں آنے والوں کا کوئی نظریہ اور ملک کی بہتری کا ایجنڈا نہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ

جماعت اسلامی اور ایم ایم اے آئندہ انتخابات میں کرپٹ ، نیب زدہ ، قرضے معاف کرانے والوں اور قومی دولت لوٹ کر باہر کے بینکوں میں جمع کرانے والوں کو ٹکٹ دینے کی بجائے صاف ستھرے ، دیانتدار اور صاحب کردار باصلاحیت لوگوں کوٹکٹ دے گی ۔انہوں نے مرکزی اور صوبائی حکمرانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی کارکردگی پیش کریں کہ انہوں نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کیا کارنامہ انجام دیاہے، انہیں گالیوں اور مولا جٹ کا کردار ادا نہیں کرناچاہیے ، سیاست دان خصوصا حکمران قوم کا باپ ہوتاہے

اور وہ قوم کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھاتاہے ۔ سراج الحق نے الیکشن 2018 کے لیے منصورہ میں فنڈریزنگ کا بھی افتتاح کیا ۔ اس موقع پر جماعت کے مرکزی ذمہ داران اور کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ سرا ج الحق نے کہاکہ ہم الیکشن سے قبل فنڈ کا آغاز کر رہے ہیں ۔ ہم نے پنجاب کی ضلعی شوراؤں اور امرائے جماعت سے کہاہے کہ لوگوں سے ووٹ بھی مانگو اور نوٹ اور سپورٹ بھی ۔ انقلاب کے لیے یہ سب چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ دوسری پارٹیاں کرپٹ لوگو ں کو ٹکٹ اور پارٹی جھنڈے تھما کر

انقلاب کے جھوٹے دعوے کرتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایم ایم اے دیانتدار اور باصلاحیت لوگوں کو ٹکٹ دے گی ۔ سینیٹر سراج الحق نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ بڑا بھائی ایک پارٹی میں ہے تو چھوٹا بھائی دوسری پارٹی میں ۔ چچا ایک کے ساتھ ہے تو بھتیجا دوسرے کے ساتھ، اس طرح انقلاب نہیں آتا ۔ انقلاب وہ ہو گا جو ہم لائیں گے ۔ میاں نوازشریف کے مستقبل کے بارے میں سوال کے جواب میں

سراج الحق نے کہاکہ مجھ سے پاکستان کے عام شہریوں کا مستقبل پوچھیں ۔ان سیاستدانوں کے مارشل لا میں بھی وارے نیارے ہوتے ہیں ، میرا ان کو مشورہ ہے کہ وہ اب تو بہ و استغفار کریں اور اللہ سے ملاقات کی تیاری کریں ۔ وہ خود کہتے ہیں کہ اڈیالہ جیل کو ان کے لیے تیار کیا جارہاہے میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرناچاہتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…