جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

شوہر بچوں کو نیند کی گولیاں کھلا کر ملائیشیا لے گیا، ریڈ وارنٹ جاری ہونے کے باوجود وزرات داخلہ نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا، خاتون کی چیف جسٹس سے فریاد ، چیف جسٹس نے بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 28  اپریل‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے شوہر کی جانب سے بچوں کو بیرون ملک لیجانے کا نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کر لی ۔اقراء مظفر نامی خاتون کے مطابق اسکا شوہر 2ستمبر 2017ء کو نیند کی گولیاں کھلاکر بچوں کو ملائیشیا لے گیا ،ان کے دو بچے ہیں جن میں چھ ماہ کا داؤد اور ڈیڑھ سالہ دریاب ہیں اور دونوں بچے 8ماہ سے ملائیشیا میں ہیں۔اقراء مظفر نے بتایا کہ وہ بچوں کے حصول کے لیے ملائیشیا تک گئی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوسکی ۔

ملائیشین ایمبسی نے کہا کہ پہلے خاوند کے ریڈ وارنٹ لے کر آئیں پھر کارروائی ہو گی جبکہ ریڈ وارنٹ جاری ہونے کے باوجود وزرات داخلہ نے کوئی اقدام نہیں اٹھایا ۔خاتون نے چیف جسٹس آف پاکستان کو بچوں کی تصاویریں اور ریڈ وارنٹ پیش کرتے ہوئے درخواست کی کہ بچوں کے حصول کے لیے دربدر ٹھوکریں کھا رہی ہوں ۔لہٰذا انہیں واپس لانے کیلئے مدد کی جائے ۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اتنے چھوٹے بچے بیرون ملک کیسے چلے گئے ۔چیف جسٹس نے ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کرلی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…