جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

والدین یہ خبر ضرور پڑھیں۔۔مری کے چند مخصوص ہوٹلوں میں پنجاب کے کالجوں سے آنیوالے ٹرپ کیا کام کرتے ہیں، خواتین و مرد اساتذہ اور لڑکے لڑکیوں کے گروپس رات گئے تک کن کاموں میں مصروف رہتے ہیں؟شرمناک انکشاف

datetime 27  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)مری کےمخصوص ہوٹل سیرو تفریح کی آڑ میں فحاشی و عریانی کو فروغ دینے لگے، پنجاب کے کالجوں سے لڑکے لڑکیوں کے ٹرپس لا کر ان ہوٹلوں میں مخلوط ڈانس پارٹیاں اور میوزک شو کی آڑ میں اساتذہ بچوں کو بے راہ روی کا درس دینے لگے، مری مال روڈ ، پنڈی پوائنٹ اومخصوص ہوٹلز ڈیٹس پوائنٹس بن گئے، مری انتظامیہ سیاحت کے نام پر قانونی کارروائی

سے گریزاں، عوامی حلقوں کا اعلیٰ حکام سے مری میں سیاحت کے نام پر بے راہ روی کو روکنے کا مطالبہ ۔ تفصیلات کے مطابق مری میں فحاشی و عریانی کا سیلاب امڈ آیا ہے اور سر عام بے راہ روی کے مظاہرے عام دیکھنے میں مل رہے ہیں۔ اس بے راہ روی کا سب سے بڑا موجب پنجاب کے مختلف کالجوں سے آنے والے لڑکے لڑکیوں کے ٹرپس بن رہے ہیں۔ سیر وتفریح کی آڑ میں کالجوں کے میل اور فی میل اساتذہ فحاشی عریانی کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں۔ ٹرپ میں شامل لڑکیوں اور لڑکوں کے گروپ رات گئے تک ہوٹل انتظامیہ کی معاونت سے میوزک شو کی آڑ میں ڈانس پارٹی منعقدکرتے ہیں ان ڈانس پارٹیوں کے تماشائی میل اور فی میل ٹیچرز اور کالج اور یونیورسٹی کے لڑکے ہوتے ہیں ٹرپوں کی آڑ میں بچوں کو بے راہ روی کا درس دے رہے ہیں جبکہ مختلف مذکورہ کالجوں کے لڑکے اور لڑکیاں رات گئے تک مری مال روڈ ، پنڈی پوائنٹ اور ہوٹلوں میں ملاقاتیں کرتے ہیں جس سے فحاشی اور عریانی پھیل رہی ہے ۔ عوامی حلقوں کی جانب سے شکایات کے باوجود مری انتظامیہ سیاحت کے نام پر قانونی کارروائی سے گریزاںہے۔ عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مری میں سیاحت کے نام پر بے راہ روی کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ٹرپ میں شامل لڑکیوں اور لڑکوں کے گروپ رات گئے تک ہوٹل انتظامیہ کی معاونت سے میوزک شو کی آڑ میں ڈانس پارٹی

منعقدکرتے ہیں ان ڈانس پارٹیوں کے تماشائی میل اور فی میل ٹیچرز اور کالج اور یونیورسٹی کے لڑکے ہوتے ہیں ٹرپوں کی آڑ میں بچوں کو بے راہ روی کا درس دے رہے ہیں جبکہ مختلف مذکورہ کالجوں کے لڑکے اور لڑکیاں رات گئے تک مری مال روڈ ، پنڈی پوائنٹ اور ہوٹلوں میں ملاقاتیں کرتے ہیں جس سے فحاشی اور عریانی پھیل رہی ہے ۔ عوامی حلقوں کی جانب سے شکایات کے باوجود مری انتظامیہ سیاحت کے نام پر قانونی کارروائی سے گریزاںہے۔ عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مری میں سیاحت کے نام پر بے راہ روی کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…