بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ایک ہفتے میں 150منٹ کی ورزش یا واک کی جائے تو خواتین کس بیماری سے بچ سکتی ہیں؟طبی ماہرین نے مفید مشور ہ دیدیا

datetime 26  اپریل‬‮  2018 |

ٹورانٹو(سی ایم لنکس)چھاتی کا سرطان پاکستان سمیت دنیا بھر کی خواتین کے لیے ایک ڈرانا خواب بن چکا ہے اور اس موذی مرض میں مبتلا ہونے والی خواتین کی 25 فیصد تعداد پر صحتیاب ہونے کے بعد بھی یہ مرض دوبارہ حملہ کرتا ہے لیکن باقاعدہ ورزش اور جاگنگ سے یہ خطرہ 40فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ٹورانٹو میں واقع سنی بروک ہیلتھ سائنس سینٹر کے ماہرین نے بریسٹ کینسر سے شفایاب ہونے والی خواتین کے 67 مطالعات کا جائزہ لیا ہے۔

اور ان کی صحتیابی میں علاج کے علاوہ غذا، وزن اور ورزش وغیرہ کے درمیان کسی ممکنہ تعلق کو تلاش کیا ہے جس کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ورزش سے کینسر کے دوسرے حملے اور موت کا خطرہ 40 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بریسٹ کینسر سے اموات سے بچنے کا سب سے بہترین اور قابلِ عمل نسخہ یہی ہے کہ ایک ہفتے میں 150منٹ کی ورزش یا واک کی جائے تاہم یہ بریسٹ کینسر سے صحتیابی کے بعد شروع کی جائے کیونکہ اس سے مرض دوبارہ لاحق ہونے کو بہت حد تک ٹالا جاسکتا ہے۔ ماہرین اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شاید ورزش بدن میں سوزش اور جلن کے عمل کو روکتی ہے اور اس طرح خلیات میں ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوتی اور وہ سرطانی ہونے سے بچ رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ورزش کینسر بڑھنے کو بھی روکتی ہے۔اس مطالعے کا ایک جھول یہ ہے کہ خود خواتین کو یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ کتنی ورزش کرسکتی ہے کیونکہ کینسر سے شفا کے بعد بھی کمزوری برقرار رہتی ہے۔ اس کے علاوہ دوسری بار لاحق ہونے والا کینسر اگر نظر میں نہ بھی آئے تب بھی خواتین کو جلد تھکا دیتا ہے اور ورزش کے فوائد کم ہوجاتے ہیں۔ واشنگٹن میں فریڈ ہچنسن کینسر مرکز کی اسکالر کے مطابق اگر خواتین کو ان کی مرضی کی ورزش کچھ عرصے تک کرنے دی جائے تو اس کے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…