جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

گجرات میں پاکستانی نژاد اطالوی لڑکی مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل،باپ،بھائی اور چچا نے قتل کیا اور ۔۔! انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 24  اپریل‬‮  2018 |

گجرات(این این آئی)پنجاب کے شہر گجرات میں ایک پاکستانی نژاد اطالوی لڑکی ثناء چیمہ کو اس کے باپ، بھائی اور چچا نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کردیا اور موت کو حادثہ قرار دے کر سپرد خاک کردیا۔پولیس کے مطابق 18 اپریل کو گاؤں منگووال غربی میں پاکستانی نژاد اٹلی کی شہری 26 سالہ ثناء چیمہ کی موت کی رپورٹس سامنے آئی تھیں، تاہم اہلخانہ نے اسے حادثہ قرار دے کر لڑکی کو سپرد خاک کردیا تھا۔بعدازاں سوشل میڈیا اور اٹالین میڈیا پر یہ رپورٹس سامنے آنے کے بعد ثناء چیمہ کو قتل کیا گیا ہے

ٗڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) گجرات کے حکم پر تحقیقات شروع کردی گئیں۔پولیس کے مطابق مقتولہ کے والد غلام مصطفی اس کی شادی رشتے داروں میں کرنا چاہتے تھے ٗمگر ثناء چاہتی تھی کہ اس کی شادی اٹلی میں ہو۔پولیس کے مطابق غلام مصطفی نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر اپنے بیٹے عدنان مصطفی اور بھائی مظہر اقبال کے ساتھ مل کر اپنی بیٹی کو تشدد کرکے قتل کردیا۔ پولیس نے ایس ایچ او کی مدعیت میں تینوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا تاہم ملزمان اب تک پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کی قبرکشائی کیلئے علاقہ مجسٹریٹ کو درخواست دے دی گئی ہے اور پوسٹمارٹم کی روشنی میں تفتیش آگے بڑھے گی۔واضح رہے کہ 2016 میں بھی غیرت کے نام پر قتل کا ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا ٗ جب برطانوی نڑاد پاکستانی خاتون سامعہ شاہد کو جہلم میں غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا تھا۔بریڈ فورڈ کی رہائشی 28 سالہ سامعہ اپنے والدین کے گھر جہلم آئی تھی ٗجہاں جولائی 2016 میں ان کی موت واقع ہوگئی، اہل خانہ کا دعویٰ تھا کہ سامعہ کو دل کا دورہ پڑا، جو ان کی موت کی وجہ بنا تاہم سامعہ کے دوسرے شوہر مختار سید کاظم نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے پولیس میں رپورٹ درج کروائی تھی کہ ان کی اہلیہ کو قتل کیا گیا کیونکہ ان کے سسرال والے اس شادی کے خلاف تھے اور بعدازاں تفتیش کے نتیجے میں سامعہ کے پہلے شوہر چوہدری شکیل نے انہیں گلا دبا کرقتل کرنے کا اعتراف کرلیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…