جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

اس وقت تک تنخواہ نہیں لوں گا جب تک ۔۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے تاریخ رقم کر دی، منصف ہونے کا حق ادا کر دیا

datetime 24  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جب تک پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ ملازمین کو تنخواہیں نہیں مل جاتیں اس وقت تک اپنی تنخواہ بھی نہیں لونگا،ایڈیشنل رجسٹرار صاحب یہ حکم ہے، میرے اکا ؤ نٹ میں چیک ڈیپازٹ نہیں کرانا،جب تک ملک بھر کے پی ڈبلیو ڈی ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملتیں میرے اکا ؤ نٹ میں چیک نہیں آنا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پاکستان پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ(پی ڈبلیو ڈی) ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنی تنخواہ لینے سے بھی انکار کر دیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک باقی سرکاری ملازمین کو تنخوا ہ نہیں ملے گی مجھے بھی تنخواہ نہ دی جائے، یہ عام ہو چکا ہے کہ سرکاری ملازمین کو یکم کو تنخواہ نہیں ملتی۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ریاست کے تمام ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی تک چیف جسٹس کو تنخواہ نہ دی جائے، چیف جسٹس نے ایڈیشنل رجسٹرار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایڈیشنل رجسٹرار صاحب یہ حکم ہے، میرے اکا ؤ نٹ میں چیک ڈیپازٹ نہیں کرانا۔ ملازمین کو ادائیگی کی تصدیق کے بعد میرا چیک میرے اسٹاف کو دیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ میں جیو ملازمین کو تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے معاملے کی سماعت ہوئی، سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ میر شکیل الرحمن بتائیں کہ تنخواہیں کیوں ادا نہیں ہوئیں؟ مالک کو کفالت کا حق ادا کرنا ہے، چیف جسٹس نے حامد میر سے کہا کہ آپ بھی کہہ رہے ہیں تنخواہ نہیں مل رہی، تنخواہ نہ ملی تو حامد میر کی مرسڈیز گاڑی کیسے چلے گی؟اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لوگ مجھے

ابھی تک سمجھ ہی نہیں پائے، میرے خلاف شکایت کرنا ہے تو کریں۔واضح رہے کہ بدھ 4اپریل کو سپریم کورٹ میں میڈیا ہاؤسز میں تنخواہوں کی ادائیگی میں تا خیر سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی تھی دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جیونیوز کو 30 اپریل تک ملازمین کے تمام واجبات ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاتھا کہ ملازمین کسی بھی ادارے میں ریڑھ کی ہڈی

جیسی حیثیت ہوتی ہے اور ملازمین کے بل بوتے پر ہی آپ کے چینل چل رہے ہیں، بھیک مانگیں یا قر ض لیں، واجبات فوری اداکریں، ایک چینل نے تو پراپرٹی بیچ کر تنخواہیں ادا کیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ تنخواہیں دے کر سرٹیفکیٹ بھی عدالت میں جمع کرائیں جب کہ اتوار کو بھی سماعت کرنا پڑی تو کریں گے کیوں کہ مسئلے کا حل چاہیے۔واضح رہے کہ میڈیا ہائوسز میں تنخواہوں کی ادائیگی کے

حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران حامد میر نے چیف جسٹس سے شکایت کی تھی کہ جیو نیوز میں تین ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی بند ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…