جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

’’علی ظفر کا ماضی سب کو پتہ نہیں؟ وہ تو زیادہ تر۔۔ کا ہوتا ہی ہے۔! یہ ہلہ گلہ کچھ اور ہے‘‘ میشا شفیع کو کیوں سچا سمجھتا ہوں؟ عامر لیاقت کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 23  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عامر لیاقت نے گلوکارہ و ماڈل میشا شفیع کی طرف سے گلوکار علی ظفر پر لگائے گئے جنسی ہراسگی کے الزامات پر کہا کہ مجھے ان میں صداقت محسوس ہوتی ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں انہوں نے کہا کہ اگر میں میشا شفیع کے خاندان کو دیکھتے ہوئے اس پر کچھ کہوں تو مجھے ان کے الزامات میں صداقت نظر آتی ہے

کیونکہ گلوکارہ بہت بولڈ خاتون ہیں، مجھے میشا شفیع کی بات پر محسوس ہوتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو ایسا ہوا ہے جس نے ان کو کھل کر سامنے آنے پر مجبور کر دیا۔ پروگرام کے میزبان کامران شاہد نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ دونوں کے درمیان کسی بات پر کوئی جھگڑا ہوا ہو، جس کے جواب میں ڈاکٹر عامر لیاقت نے کہا کہ اگر دونوں کے درمیان کوئی جھگڑا بھی ہوا ہے تو ہمیں ان دونوں کے کرداروں کے بارے میں دیکھنا ہوگا کہ علی ظفر اور میشا شفیع کا ماضی کیا رہا ہے۔ جب پروگرام کے میزبان کامران شاہد نے ڈاکٹر عامر لیاقت سے گلوکار علی ظفر کے ماضی پر روشنی ڈالنے کو کہا تو ڈاکٹر عامر لیاقت نے اس موقع پر کہا کہ اب میں یہ میڈیا پر تو نہیں بتا سکتا بہت سارے لوگ جانتے ہیں کہ علی ظفر کا ماضی کیا رہا ہے، اس پر پروگرام کے میزبان نے کہا کہ ان کا ماضی کس طرح کا رہا ہے، جس کے جواب میں ڈاکٹر عامر لیاقت نے کہا کہ ہلے گلے والا ماضی۔ جس پر پروگرام کے میزبان کامران شاہد نے کہا کہ ہمارا ماضی بھی ہلے گلے والا رہا ہے اس پر عامر لیاقت نے کہا کہ ہمارے ہلے گلے پر مقدمات بن جاتے ہیں یہ ہلہ گلہ کچھ اور ہے۔ عامر لیاقت نے گلوکارہ و ماڈل میشا شفیع کی طرف سے گلوکار علی ظفر پر لگائے گئے جنسی ہراسگی کے الزامات پر کہا کہ مجھے ان میں صداقت محسوس ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…