جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پشتون تحفظ موومنٹ اور حکومت میں تنازعہ بڑھ گیا،مریم نواز ،بلاول بھٹو سمیت دیگر سیاستدانوں حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوئے،تمام رہنما و کارکن چھوڑ دیئے گئے

datetime 22  اپریل‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرادری سمیت دیگر سیاستدانوں نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم)کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے حق کی حمایت کردی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی ایم کی جانب سے لاہور کے موچی گیٹ پر ریلی کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا تاہم ضلعی انتظامیہ نے انہیں ریلی کی اجازت نہیں دی تھی

اور اس کے بعد تنظیم کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جس پر پی ٹی ایم نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا۔مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ پشتون بھائیوں کو فوری رہا کیا جانا چاہیے اور جلسہ کی اجازت دی جانی چاہیے۔ یہ ملک اتنا ہی ان کا ہے جتنا ہم سب کا۔انہوں نے نے ایک علیحدہ ٹوئٹ میں کہا کہ ظلم و زیادتی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو زبردستی دبانے کی کوشش نہ کبھی کامیاب ہوئی ہے اور نہ ہوگی، وجوہات کا سد باب کیا جائے۔بعد ازاں سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے پشتون تحفظ موومنٹ کے حق میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے لاہور میں پشتون اجتماع پر پابندی عائد کرنا تکلیف دہ امر ہے، یہ وقت ان کے زخم بھرنے کا ہے۔سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب نہ صرف لاہور میں بیان کیے جانے والے دکھوں اور تکلیفوں کو سنے بلکہ ان کی آوازوں کو بند کرنے کے بجائے ان کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ماضی کے تلخ تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے یہ وقت قومی یکجہتی کا ہے۔دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ہر پاکستانی کو احتجاج کا حق ہے اور پی ٹی ایم علیحدہ نہیں ہے،

اور انہوں نے ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) کے تا حیات قائد نواز شریف کی جانب سے لگائے جانے والے حالیہ نعرے ووٹ کو عزت دو کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔علاوہ ازیں لاہور پولیس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پی ٹی ایم کے جلسہ منتظمین میں سے کسی کو حراست میں نہیں لیا بلکہ پشتون تحفظ مومنٹ کے جلسہ منتظمین کو سکیورٹی پر مذاکرات کے لیے بلایا گیا تھا۔پولیس نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے جلسے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا، اور دعویٰ کیا کہ ضلعی انتظامیہ نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اجازت دینے سے انکار کیا۔ادھر پی ٹی ایم کا کہنا تھا کہ ہمارے تمام کارکن چھوڑ دیئے گئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ان کے کارکنان اور رہنماؤں کو تین سے چار گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…