جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس کی جانب سے استعفے طلب کرنے پر متعدد سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر مستعفی، استعفےپیش کر دئیے

datetime 22  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تین یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں نے استعفے سپریم کورٹ میں پیش کر دئیے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نےیونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتیوں کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران گزشتہ روز مستعفی ہونے والے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر زکریا ذاکر پیش ہوئے اور یونیورسٹی

کی 80کنال اراضی حکومت کو گرڈاسٹیشن کیلئے دینے پر معافی طلب کی، ڈاکٹر زکریا کا کہنا تھ اکہ 28سال تعلیم دی ہے ایک لرزش ہو گئی ہے عدالت شفقت فرماتے ہوئے معاف فرما دے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ استادکااحترام ہے،زیادہ بات مت کریں ورنہ سب سامنے لے آؤں گا ۔نپولین نے استاد کے گھرمیں پناہ لینے والوں پررحم کیاتھا۔ تین یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر نے استعفی سپریم کورٹ میں پیش کر دئیے ہیں۔فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر خالد محمود گوندل نے استعفی دے دیا ہے۔جس کے بعد سینئیر پروفیسر کو قائم مقام وی سی فاطمہ جناح یونیورسٹی تعینات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ استعفی دینے والےو ائس چانسلروں میں وی سی فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر فرید ظفر اور راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے وی سی ڈاکٹر عمر شامل ہیں۔ تین یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر نے استعفی سپریم کورٹ میں پیش کر دئیے ہیں۔فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر خالد محمود گوندل نے استعفی دے دیا ہے۔جس کے بعد سینئیر پروفیسر کو قائم مقام وی سی فاطمہ جناح یونیورسٹی تعینات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ استعفی دینے والےو ائس چانسلروں میں وی سی فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر فرید ظفر اور راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے وی سی ڈاکٹر عمر شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…