اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

اضافی نفری واپس بلانے کے احکامات ،تقریباً13 ہزار 600 پولیس اہلکاروں میں سے اکثریت نے واپس رپورٹ کر دی

datetime 22  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد/ لاہور(این این آئی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کے حکم پرملک بھر میں مختلف شخصیات کی سکیورٹی پر تعینات اضافی نفری واپس بلانے کے احکامات کے بعد تقریباً13 ہزار 600 پولیس اہلکاروں میں سے اکثریت نے واپس رپورٹ کر دی ہے ۔مذکورہ غیر معمولی فیصلے کے نتیجے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے متعدد سیاستدان بشمول سابق وزیرعظم نوازشریف، سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ،

جمعیت علمائے اسلام (ف)کے امیر مولانا فضل الرحمن، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان سمیت اعلیٰ عہدوں پر فائز پولیس افسران، بیوروکریٹس، غیر ملکیوں، ججز اور صحافیوں سے اضافی سکیورٹی واپس ہو جائے گی۔ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے چاروں صوبوں میں غیر متعلقہ افراد کی اضافی سکیورٹی سے متعلق فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب سے 4ہزار 610 پولیس اہلکار، سندھ سے 5 ہزار 5، خیبرپختونخوا ہ سے 3ہزار، بلوچستان سے 829جبکہ اسلام آباد سے 246اہلکاروں کو واپس پولیس اسٹیشن رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔دوسری جانب آئی جی اسلام آباد پولیس ڈاکٹر سلطان اعظم تیموری نے ڈی آئی جی پولیس سکیورٹی سمیت انسداد دہشت گردی کے وفاقی ادارے نیکٹا، خفیہ ایجنسیوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دیدی ہے جو مستقبل میں پولیس سکیورٹی کی فراہمی سے متعلق درخواستو ں کا جائزہ لے گئی۔سکیورٹی حاصل کرنے کے مجاز افراد کو 12 کیٹیگریز میں رکھا گیا جس میں صدر اور سابقہ صدر، وزیراعظم اور سابقہ وزیراعظم، سینیٹ چیئرمین، اسپیکر قومی اسمبلی، اسپیکر صوبائی اسمبلی، وزیراعلی اور دورے پر آئے وزیراعلی، گورنر اور دورے پر آئے گورنر، صوبائی اور وفاقی وزرا، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے جج صاحبان، چیف سیکرٹری ، سیکرٹری داخلہ، وزیراعلی کے سیکرٹری ، گورنر کے سیکرٹری ، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر، اعلی پولیس افسران سمیت ایسے افراد جنہیں دھمکیاں ملنے پر وزارت داخلہ سکیورٹی فراہم کرے اور عدالت کی جانب سے جن کی حفاظت کے احکامات دئیے جائیں شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…