اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کا وہ ہسپتال جو ہسپتال نہیں بلکہ جیل ہے اور وہاں خواتین مریضوں کو بھی مرد ورکر دیکھتے ہیں، چیف جسٹس کا حیرت انگیز انکشاف، دھماکہ خیز اعلان کردیا

datetime 21  اپریل‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے ذہنی معذور خاتون کی سزائے موت پر عملدر آمد روکتے ہوئے خاتون کی اپیل پر سماعت کیلئے 5 رکنی بینچ تشکیل دے دیا،عدالت نے سزائے موت کی قیدی کنیز فاطمہ کا پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں علاج کروانے کا حکم جاری کرتے ہوئے خاتون کی ذہنی حالت کا جائزہ لینے کیلئے میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دینے کا حکم جاری کیا۔گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت عدالتی معاون عائشہ حامد نے عدالت کو بتایا کہ کنیز فاطمہ 1989ء میں قتل کے مقدمہ میں ملوث ہوئی تھیں اور اسے 2000ء میں سزائے موت پر عملدرآمد کا حکم دیا گیا تھا جبکہ سزائے موت کی قیدی کی سزا کیخلاف اپیلوں کے تمام قانونی راستے ختم ہو چکے ہیں۔سماعت کے دوران عدالتی حکم پر نفسیاتی ہسپتال کے ڈاکٹر طاہر منیر پیش ہوئے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے ان سے سوال کیا کہ کیا کسی ذہنی مریض کو موت کی سزا پر عملدرآمد کیا جا سکتا ہے؟۔ان کا کہنا تھا کہ میری عقل اور سمجھ میں نہیں آتا کہ کسی ذہنی مریض اور معذور کو پھانسی پر لٹکایا جائے۔چیف جسٹس نے ڈاکٹر طاہر منیر سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نفسیاتی ہسپتال علاج گاہ نہیں بلکہ جیل ہے، پتہ چلا ہے وہاں مریض اپنی حاجت بھی بستر پر کر دیتے ہیں اور وہاں خواتین مریضوں کو بھی مرد ورکرز دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب آپ تیار رہیں میں کسی بھی وقت نفسیاتی ہسپتال کا دورہ کر سکتا ہوں۔عدالت نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں ڈائریکٹر کی خالی اسامی پر تعیناتی کے حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔عدالت نے ذہنی معذور خاتون کی سزائے موت پر عملدر آمد روکتے ہوئے خاتون کی اپیل پر سماعت کیلئے 5 رکنی بینچ تشکیل دے دیا،عدالت نے سزائے موت کی قیدی کنیز فاطمہ کا پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں علاج کروانے کا حکم جاری کرتے ہوئے خاتون کی ذہنی حالت کا جائزہ لینے کیلئے میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دینے کا حکم جاری کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…