جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے فنڈز روک لئے،اہم منصوبے پر کام ٹھپ ،اس پراجیکٹ سے پاکستان کو کیا فائدہ پہنچنا تھا؟نامور سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا اہم انکشاف

datetime 21  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ  ڈیسک)معروف سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہاہے حکومت نے تھر گیس منصوبے کیلئے فنڈنگ روک دی ہے ،جس کی وجہ سے 100میگاواٹ کے منصوبے سے ایک میگاواٹ بجلی بھی پیدا نہیں ہورہی ۔لتفصیلات کے مطابق لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی میں کیمسٹری کے سیمینار کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ثمرمبارک مند نے کہاایٹم بم کی تیاری پر ٹھیک طرح سے کام بھا رت کی جانب سے پہلی دفعہ

ایٹمی دھماکہ کرنے کے بعد کیا گیا ۔1998میں جب بھارت نے دوبارہ دھماکے کیے تو اس وقت کے وزیر اعظم نے مجھے بلا کر ایٹم بم کی تیاری کے حوالے سے تفصیلات مانگیں۔انہوں نے کہا انڈیا طاقت کی زبان سمجھتا ہے ، اگر ایٹمی دھماکے نہ کیے ہوتے تو بھارت نے ہم پر اجارہ داری قائم کرلینی تھی ۔تھر میں بجلی منصوبوں کے حوالے سے انکا کہنا تھا تھر کا کوئلہ نکالناآسان نہیں، کوئلہ درآمد کرنا پڑے گا ۔انہوں نے کہا نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال بھی ہے ۔یاد رہے کہ  1980-90 ء کے عشرے میں اس علاقے میں ایشیا کا سب سے بڑا کوئلے کا ذخیرہ دریافت ہوا اور حکومت نے جیالوجیکل سروے آف پاکستان GSP سے اس پورے علاقے کے کوئلے کی دریافت کے حوالے سے تفصیلی سروے کروایا۔ GSP نے انتہائی محنت اور جانفشانی سے ڈیڑھ عشرہ میں مکمل اور جامع سروے رپورٹ تیار کروا کر حکومت کو جمع کروائی۔ حکومت نے GSP کی سروے رپورٹ کی تصدیق کے لیے امریکا کی ایک سروے کمپنی کو مدعو کیا جس نے GSP کے سروے کی تائید کی۔ تھر میں کوئلے کی دریافت ملک و قوم کے لیے خوشی و مسرت کی نوید بن کر آئی۔ GSP کی امریکی سروے کمپنی سے تصدیق شدہ رپورٹ کے مطابق تھر میں تقریباً 9600 مربع کلو میٹر کے وسیع

عریض علاقے میں زیر زمین کوئلے کا عظیم ذخیرہ موجود ہے۔ جس کی کل مقدار کا تخمینہ کم از کم 180 بلین ٹن لگایا گیا ہے۔ جب کہ یہ ایشیا کا سب سے بڑا کوئلے کا ذخیرہ ہے اس کوئلے کی مجموعی توانائی تمام عرب ملکوں کے مجموعی تیل کے ذخائر کی توانائی سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ اس کوئلے کی کل مالیت کی وجہ سے پاکستان دنیا کی ساتویں امیر ترین ریاست ہے۔ علاوہ ازیں اس کوئلے سے مسلسل تین صدیوں تک ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جب کہ ملک کی مجموعی بجلی کی کھپت بیس ہزار میگاواٹ ہے، 1992ء سے لے کر 2010ء تک پورے دو عشروں میں حکومت اس کوئلے کے ذخیرے کو استعمال کرنے کے حوالے سے مکمل طور پر غیر سنجیدہ رہی اور صرف کاغذی کارروائی کی حد تک کام کو محدود رکھا  گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…