جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

اسموگ کمیشن رپورٹ مرتب کرکے 9 جون کو پیش کرے، چیف جسٹس

datetime 21  اپریل‬‮  2018 |

لاہور (آئی این پی )چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے اسموگ کمیشن کو رپورٹ مرتب کرکے 9 جون کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہ آئندہ نسلوں کی صحت کا معاملہ ہے، اس میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔واضح رہے کہ درخواست گزار شیراز ذکا نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اسموگ کے پھیلا سے انسانی صحت اور ماحول متاثر ہو رہا ہے۔

لہذا اس کی روک تھام کے لیے حکومت کو حکم جاری کیا جائے۔اس پٹیشن پر سماعت کے بعد 14 نومبر 2017 کو لاہور ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس منصور علی شاہ نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ 3 ماہ کے اندر اسموگ کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے پالیسی جمع کروائیں اور ایک اسموگ کمیشن تشکیل دیں۔بعدازاں چیف جسٹس پاکستان نے ازخود نوٹس لے کر ہائیکورٹ سے ریکارڈ طلب کیا تھا۔جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں ہفتہ کو سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے لاہور رجسٹری میں اسموگ کے معاملے پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار، اسموگ کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر پرویز حسن، محکمہ ماحولیات کے لا افسران اور دیگر عہدیداران پیش ہوئے۔عدالت عظمی نے حکم دیا کہ اسموگ کمیشن رپورٹ مرتب کرکے 9 جون کو پیش کرے۔عدالت کا مزید کہنا تھا کہ اسموگ کے خلاف زیر التوا درخواستیں کمیشن رپورٹ کے بعد یکجا کرنے کاحکم دیں گے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ آئندہ نسلوں کی صحت کا معاملہ ہے، اس میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔واضح رہے کہ موسم سرما میں لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں آلودہ دھند یعنی اسموگ کا راج ہوتا ہے، جس سے نہ صرف معمولات زندگی متاثر ہوتے ہیں بلکہ صحت کے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں فضائی آلودگی کے معاشی اثرات قریبا 50 ارب ڈالر کے برابر ہیں، جو ہماری جی ڈی پی کا 6 فیصد بنتا ہے۔ پاکستان میں ایک لاکھ 35 ہزار اموات فضائی آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہیں، جو ہمارے ملک میں بیماریوں اور اموات کی ایک بڑی وجہ بنتی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…